اشاعتیں

urdu literature لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

عالی جاہ کو دی گئی بریفنگ - امر گل

تصویر
عالی جاہ کو دی گئی بریفنگ

امر گل


عالی جاہ!
اشرافیہ نے

ہمارے خزانے کی ساری اشرفیاں

محافظوں کو ساتھ ملا کر

اپنی تجوریوں میں

منتقل کر دی ہیں...


عالی جاہ!
ہمارے خزانے میں

مضبوط معیشیت کے بڑے بڑے اشتہار

بھاری تعداد میں سخت نوٹیس
اور مذمتیں،

محب الوطنی اور غداری کے

استعمال شدہ اور غیر استعمال شدہ سرٹیفکیٹ،

زنگ آلود آہنی ہاتھ،

شاہین کی ٹوٹی ہوئی چونچ

قرض کے بہی کھاتے

اور کچھ ٹوٹے پرانے کشکول ہی پڑے ہیں...


عالی جاہ!
شاہی محل کے گوداموں میں

رعایا کی طرف سے بھیجی گئی

انصاف کی عرضیوں کی ردّی کے

بڑے بڑے ڈھیر لگے ہوئے ہیں

اس ردی کو بیچ کر

کچھ دن کا گذارا ہو سکتا ہے..


ہاں ایک بات... عالی جاہ!

نو بجے والے خبرنامے

اور  رعایا کو دکھائے جانے والے

سبز باغ کے خوابوں کی چند سی ڈیاں بھی

آپ کی شیروانی کے ساتھ رکھی ہونگی،

اگر آپ چاہیں تو

ان سے بھی کچھ دن کام چلایا جا سکتا ہے

عالی جاہ!
ہمارے مورخ نے

اسٹاک میں پڑے ہوئے سارے سنہرے حروف

ہمارے پرکھوں کی کہانیاں

اور ماضی کی عظمتوں کے قصے

لکھنے میں ہی کب کے کھپا دیے ہیں..


اور جان کی امان پاؤں، عالی جاہ!
تو کچھ عرض کروں....

اب ہمارے پاس
مستقبل کے منہ پر پوتنے کے لیے

کالی سیا…

ہمارے معاشرے کی کہانی، ہمارے معاشرے کے نوجوانوں کی کہانی

تصویر
افسانہ عذابِ آگہی تحریر: مشتاق رسول
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

وہ مین روڈ پر رکشے سے اتر کر پیدل اپنے گوٹھ کی طرف جا رہا تھا، اس کا گوٹھ مین  روڈ سے دو کلو میٹر کے فاصلے پر ایک بڑے گوٹھ کے بعد آتا تھا.. چاند کی آخری تاریخیں تھیں، چاند اماوس کے گھونگھٹ میں اور نظروں سے اوجھل تھا اور جھینگر خاموشی کی تھاپ ہر اس کے سہرے گا رہے تھے، گپ اندھیرا جوبن کی مستی میں انگڑائیاں لے رہا تھا..
وہ اِس وقت اپنے ہاتھ میں ایک رسالہ اور کچھ کتابیں لیے جس گاؤں کی طرف جا رہا تھا، وہ گاؤں اس کا اپنا تھا، لیکن اس کے باوجود بھی  وہ اپنے اس گاؤں میں ہمیشہ ایک اجنبی اور ایک مسافر کی طرح ہی رہا...

وہ  الفاظ اور اظہار سے محبت رکھنے والا ایک شخص تھا، جس کے ہونٹوں پر خاموشی کی مہر چسپاں تھی.  اسے علم سے ہمیشہ سے ہی عشق تھا، اُس پر اِس عشق کا یہ رنگ کب چڑھا، یہ وہ خود بھی نہیں جانتا تھا.. اسے جہالت کے اندھیرے سے ہمیشہ نفرت رہی، لیکن اس نفرت کی ساری وجہیں اسے پتہ تھیں. اپنے کندھوں ہر اسے ہمیشہ اپنے آس پاس سے مختلف ہونے کا بوجھ ڈھونا پڑا تھا. جب اس کے ہم عمر کھیل تماشوں میں مشغول رہتے تھے، وہ    تعلیمی سیمیناروں، …

محبت کی فطرت اور فطرت کی محبت سے جڑے احساسات کی کہانی

تصویر
ساون اب کبھی نہیں آئے گا
عومر درویش ــــــــــــــــــــــــــــ
وہ اپنے بچپن سے بکریاں چرا رہا ہے. اس نے بچپن کے سارے کھیل بکریاں چراتے ہی کھیلے... بکری کے چھوٹے پیارے سے بچے ہی اس کا کھلونا بھی ہوتے تھے...
بارش کے بعد جنگل ہرے بھرے لگ رہے ہیں، دور دور تک سبز چادر بچھی ہوئی ہے۔ حسب معمول گیم واچر یعنی جنگلات کا محافظ درختوں کے بیچوں بیچ ایک پگڈنڈی سے نمودار ہوتا ہے.. چرواہے پر  نظر پڑتے ہی  گیم واچر اسے زور سے  "ہو چاچا"  کہہ کر بلاتا ہے.. پھر رسمی علیک سلیک کے بعد گیم واچر بوڑھے چرواہے سے  پوچھتا ہے "اور سناؤ  چاچا... کوئی  درخت وغیرہ کاٹا ہے یا نہیں؟"
چاچا نفی میں سر ہلاتا ہے، گیم واچر چاچا  کو جتانے کے انداز میں بتاتا  ہے کہ درخت کاٹنا جرم ہے، اگر درخت کاٹتے ہوئے پائے گئے تو جرمانہ ہوگا۔
بوڑھا چرواہا  اپنے کھردرے ہاتھ سے آنکھوں کے اوپر چھجا بنا کر  اسے دیکھتا  اور پھر ملائم لہجے میں جواب دیتا ہے "ہم  بھلا کیوں کاٹنے لگے درخت... یہ درخت ہی تو ہماری زندگی ہیں ہمیں سایہ بھی دیتے ہیں، اور ہمارے مال مویشی کو چارہ بھی... کوئی اپنے ہاتھ کیوں کاٹے گا صاحب"
گیم و…

موجودہ حقائق کی عکاسی کرتا مشتاق رسول کا ایک افسانہ: خاموش نگاہیں

تصویر
افسانہخاموش نگاہیں مشتاق رسول

میں اپنے گھر کی چھت پر کھڑا تھا, پھر اچانک میری آنکھیں اس کے گھر کی طرف جم سی گئیں..
اس کا گھر میرے گھر سے  تھوڑے ہی  فاصلے اور گاؤں کے  جنوب میں بند کے ساتھ ہی تھا،  میری چھت سے اس کے گھر کے سامنے والے کھلے میدان  میں کھڑے لوگ دکھائی دے رہے تھے، جن کی  نظریں اس کے گیٹ پر لگی ہوئی تھیں۔  یہ سب کچھ دیکھ کر میرے ذہن میں طرح طرح کے گمان ابھرنے لگے تھے..اسی اثنا میں، میں نے بند والے راستے سے آنے والی ایمبولینس کو اس کے گھر کے سامنے رکتے ہوئے دیکھا  تو یکایک اس کی ماں کی کہی ہوئی بات میرے ذہن کی وادی میں گونجنے لگی "میرے بیٹے کو دورے پڑتے ہیں  اور اس کی چیخ و پکار گھر کی فضاء کو دہشت انگیز کر دیتی ہے.  پھر وہ چیخ چیخ کر بےہوش ہوکر گرجاتا ہے"
میری اس کی بیٹی سے تھوڑی بہت شناسائی اس وقت ہوئی تھی، جب  وہ بھی ہر صبح ڈیوٹی کی غرض سے علاقے میں ٹرانسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے اسٹاپ تک دو کلو میٹر پیدل  جارہی ہوتی تھی۔ ایک دن میں ڈیوٹی پر  لیٹ ہونے کی وجہ سے بہت تیز قدموں اس سے آگے نکلنے  کی جہد میں تھا، کہ میرے قدموں کی آہٹ سے وہ چونک گئی. جب اس نےمیری طرف  قاتل ن…