اشاعتیں

cronavirus update لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

ﮐﺮﺍﭼﯽ  ﺍﺋﯿﺮ ﭘﻮﺭﭦ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﭘﯽ ﺍٓﺋﯽ ﺍﮮ ﮐﺎ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﻃﯿﺎﺭﮦ ﮔﺮﮐﺮ ﺗﺒﺎﮦ. ﻣﺘﻌﺪﺩ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﺟﺎﮞ ﺑﺤﻖ

تصویر
ایک انتہائی بری خبر آئی ہے کہ ﮐﺮﺍﭼﯽ  ﺍﺋﯿﺮ ﭘﻮﺭﭦ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﻻﮨﻮﺭ ﺳﮯ ﺍٓﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﭘﯽ ﺍٓﺋﯽ ﺍﮮ ﮐﺎ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﻃﯿﺎﺭﮦ ﮔﺮﮐﺮ ﺗﺒﺎﮦ ﮨﻮﮔﯿﺎ ہے. ﻣﺘﻌﺪﺩ ﺍﻓﺮﺍﺩ کے  ﺟﺎﮞ ﺑﺤﻖ ﮨﻮنے کی اطلاعات ہیں۔ ﻻﮨﻮﺭ ﺳﮯ ﮐﺮﺍﭼﯽ ﺍٓﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻗﻮﻣﯽ ﺍﺋﯿﺮﻻﺋﻦ ﮐﯽ ﭘﺮﻭﺍﺯ ﺍﺋﯿﺮﭘﻮﺭﭦ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺍٓﺑﺎﺩﯼ ﭘﺮ ﮔﺮ ﮐﺮ ﺗﺒﺎﮦ ﮨﻮئی۔ ﺳﻮﻝ ﺍﯾﻮﯼ ﺍﯾﺸﻦ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﺗﺼﺪﯾﻖ ﮐﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭘﯽ ﺍٓﺋﯽ ﺍﮮ ﮐﯽ ﭘﺮﻭﺍﺯ 8305 ﮐﺎ ﻟﯿﻨﮉﻧﮓ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﻨﭧ ﻗﺒﻞ ﮐﺎ ﺍﺋﯿﺮﭨﺮﯾﻔﮏ ﮐﻨﭩﺮﻭﻝ ﺳﮯ ﺭﺍﺑﻄﮧ ﻣﻨﻘﻄﻊ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺳﻮﻝ ﺍﯾﻮﯼ ﺍﯾﺸﻦ کے ذرائع کے مطابقشﻃﯿﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﻓﻨﯽ ﺧﺮﺍﺑﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻟﯿﻨﮉﻧﮓ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﮩﯿﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﻞ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﺲ ﭘﺮ ﭘﺮﻭﺍﺯ ﮐﻮ ﺭﺍﺅﻧﮉ ﺍﭖ ﮐﺎ ﮐﮩﺎ ﮔﯿﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺟﮩﺎﺯ ﮔﺮ کر تباہ ہوگیا ۔ ﺫﺭﺍﺋﻊ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺣﺎﺩﺛﮯ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﻃﯿﺎﺭﮮ میں کل 90 ﺳﮯ ﺯﺍﺋﺪ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﺳﻮﺍﺭ ﺗﮭﮯ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ 85 ﻣﺴﺎﻓﺮ ﺍﮐﺎﻧﻮﻣﯽ ﮐﻼﺱ ﻣﯿﮟ تھے جبکہ 6 ﺑﺰﻧﺲ ﮐﻼﺱ میں تھے. ﺩﯾﮕﺮ میں ﻋﻤﻠﮯ ﮐﮯ ﺍﺭﮐﺎﻥ شامل ہیں۔ ﻃﯿﺎﺭﮮ کے ﮐﯿﭙﭩﻦ کا نام ﺳﺠﺎﺩ ﮔﻞ بتایا جا رہا ہے.  دوسرے ﻋﻤﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺍﻋﻈﻢ ، ﻓﺮﯾﺪ ﺍﺣﻤﺪ، ﻋﺒﺪﺍﻟﻘﯿﻮﻡ ﺍﺷﺮﻑ ، ﻣﻠﮏ ﻋﺮﻓﺎﻥ ﺭﻓﯿﻖ ﺍﻭﺭ ﻣﺪﯾﺤﮧ ﺍﺭﻡ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﯿﮟ۔ ﻃﯿﺎﺭﮦ ﻣﺎﮈﻝ ﮐﺎﻟﻮﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﻠﯿﺮ ﮐﯿﻨﭧ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺟﻨﺎﺡ ﮔﺎﺭﮈﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍٓﺑﺎﺩﯼ ﭘﺮ ﮔﺮﺍ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ

کرونا کی ویکسین ہمارے پاس پہلے سے ہی موجود ہے!

تصویر
کرونا کی ویکسین ہمارے پاس پہلے سے ہی موجود ہے! کرونا کرونا کے شور سے ویکسین ویکسین کی صدائیں بھی سننے میں آ رہی ہیں.... لیکن جب حواس منتشر ہوں تو ایسی حالت میں سامنے پڑی چیز بھی دکھائی نہیں دیتی.... ہر طرف ایک سوال ہے آخر یہ ویکسین کب تیار ہوگی!!؟؟ لیکن ایک منٹ رکیے..... کیا آپ کا دھیان اس طرف بلکل بھی نہیں گیا، جی ہاں، اس ویکسین کی طرف، جو نہ صرف کرونا بلکہ ہر بیماری کے خلاف ایک قدرتی ہتھیار کی طرح ہے....؟ اگر آپ کی توجہ اس طرف نہیں گئی، تو ہم آپ کو متوجہ کیے دیتے ہیں. ان دنوں آپ کو ایک اصطلاح کئی ذرائع سے مسلسل سننے کو مل رہی ہوگی: " مدافعتی نظام " Immunity / Immune System مختصر اور آسان الفاظ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ بیماریوں کے خلاف لڑنے والا قدرتی نظام ہے، جو ہمارے جسم میں موجود ہے. ہمیں صحت مند رکھنا اور ہمارے جسم کو مختلف جراثیم کے حملوں سے بچانا ہمارے مدافعتی نظام کا بنیادی کام ہے۔ یہ نظام ہر وقت جراثیم اور مختلف قسم کے بیکٹریاز سے جنگ کی حالت میں رہتا ہے. یہاں تک کہ  ﺳﺎﺋﻨﺴﯽ میگزین "ﺍﻣﯿﻮﻧﭩﯽ ﺍﯾﻨﮉ ﺍﯾﺠﻨﮓ" ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ایک ﺗﺤﻘﯿ