گڈاپ: قرنطینہ مرکز انتظامیہ کی ظالمانہ  حرکت، استعمال شدہ کٹس اور ماسک آبادی کے درمیان پھینک دیے


گڈاپ: قرنطینہ مرکز انتظامیہ کی ظالمانہ حرکت

استعمال شدہ کٹس اور ماسک آبادی کے درمیان پھینک دیے



سندھ حکومت کی طرف سے گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے کیے گئے  لاک ڈاؤن کی وجہ سے کیا عام لوگ، کیا بیوپاری، اور کیا دیہاڑی دار مزدور... سب ہی تباہ حالی اور معاشی مشکلات کا شکار ہیں. لیکن حفاظتی انتظامات کے پیش نظر لوگ یہ تکالیف بھی برداشت کر رہے ہیں، دیگر شہروں اور علاقوں کی طرح کراچی شہر کے مضافات میں واقع علاقہ گڈاپ بھی بہت حد تک لاک ڈاؤن کے اثرات کی زد میں یے اور کئی طرح کے مسائل اور مشکلات کا شکار ہے

لیکن گڈاپ کے لوگ اس حوالے سے شاید دیگر علاقوں کی بنسبت زیادہ بدقسمت ثابت ہوئے ہیں، کیونکہ ان کے ساتھ عجیب دوہرا مذاق ہو رہا ہے

جب کرونا کی وبا پھوٹنے کی باتیں چلیں تو سندھ حکومت کی نظریں قرنطینہ کے لیے سب سے پہلے گڈاپ پر ہی آ کر رکیں اور قرعہ فال گڈاپ سٹی میں قائم اس تباہ حال عمارت کے نام نکلا، جو 20 سال قبل ہسپتال کے نام بنائی تو گئی لیکن پھر کسی نے لوٹ کر بھی اس کی طرف نہیں دیکھا تھا. اگرچہ گڈاپ کے لوگوں نے اسے فعال کرانے کے لیے ہر سطح پر جدوجہد کی لیکن نہ تو مقامی نمائندوں کے کان پر کوئی جوں رینگی، اور نہ کسی اور حکومتی رکن کو ہی کوئی خیال آیا

اس ہسپتال کو قرنطینہ قرار دینے کے فیصلے پر علاقہ مکینوں نے اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا، اور اس پر اپنا احتجاج بھی رکارڈ کروایَا کہ ہسپتال گڈاپ سٹی میں واقع ہے اور اس کے آس پاس کافی آبادی ہے، لہذا کسی بھی قسم کی بے احتیاطی علاقے میں کرونا کے پھیلنے کی وجہ بن سکتی ہے.  لیکن گڈاپ کے لوگوں کی پہلے کب سنی گئی تھی، جو اب سنی جاتی

ہسپتال کو قرنطینہ مرکز بنانے کے فیصلے کو اہل گڈاپ نے کچھ مجبوری اور کچھ جذبہء خیر سگالی کے طور پر بہرحال قبول کر لیا

لیکن گزشتہ دنوں انتظامیہ کی طرف سے انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مریضوں کو گڈاپ ہسپتال منتقل کرنے کے دوران ایمبولینسز کو چنیسر گوٹھ کے پاس روک کر مریضوں کو باہر نکالا گیا، جہاں وہ ادہر ادہر گھومتے پھرتے رہے، جبکہ آس پاس بچے بھی موجود تھے

اس کے بعد ایک اور واقعے میں دو دن قبل گڈاپ سٹی کے قریب گڈاپ روڈ پر واقع بندیچہ اسٹاپ میں ان ایمبولینسز سے  استعمال شدہ کٹس اور ماسک آبادی کے بیچوں بیچ پھینک دیے گئے. یاد رہے بندیچہ اسٹاپ کی آبادی ھزاروں نفوس پر مبنی ہے. کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ گڈاپ کی اس بڑی آبادی کو کیوں جان بوجھ کر وبا کے خطرے سے دوچار کیا جا رہا ہے؟ مقامی لوگوں نے بعدازاں ان کو آگ لگا کر ضائع کر دیا

جبکہ باوثوق ذرائع کے مطابق کورونا کے دو متاثرہ مریض ہسپتال سے فرار ہو گئے ہیں اور یہ کٹس ان ہی کی ہیں. بہرحال دونوں صورتوں میں ہسپتال انتظامیہ کی غفلت واضح ہے اور علاقہ مکینوں کی صحت داؤ پر لگی ہوئی ہے

ایک طرف وزير اعليٰ سندھ سید مراد علی شاھ ہاتھ جوڑ کر لوگوں سے انسانیت کے نام پر اپیلیں کر رہے ہیں اور دوسری طرف حالت یہ ہے کہ خود ان کی انتظامیہ کی طرف سے جان بوجھ کر مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے

اس سلسلے میں گڈاپ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ
ﺍﻟﻠّﻪ ﻧﮧ ﮐﺮﮮ اگر انتظامیہ کی طرف سے اس طرح کی غیر ذمہ دارانہ حرکتوں کی وجہ سے ﮔﮉﺍﭖ ﻣﯿﮟ یہ وبا پھیلی ﺗﻮ ہمیں اس حکومت اور اس کے نمائندوں سے اتنی بھی امید نہیں کہ ہمارے ہی علاقے میں واقع یہ ﺍﺳﭙﺘﺎﻝ ﮨﻤﺎﺭﮮ  بھی کام آ سکے.
انہوں نے سوال کیا کہ  "کیا ﮔﻮﺭﻧﻤﻨﭧ کی ﻧﻈﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ یہاں ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﮯ؟"

اگرچہ اب تک گڈاپ کے لوگوں کی طرف سے کورونا کے شکار مریضوں کے لیے ہمدردی اور انتظامیہ سے مکمل تعاون کا مظاہرہ کیا گیا ہے، لیکن خود انتظامیہ کی جانب سے اس طرح کی غیر ذمہ داری پر مبنی حالیہ حرکات کو لے کر گڈاپ کے لوگوں میں انتہائی غم و غصہ پایا جاتا ہے

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"کرانچی ہمارا" اور "مرسوں مرسوں" کے شور میں دبی یہ آواز.... ذرا سی توجہ چاہتی ہے.

Gates Foundation, Wuhan Lab and WHO hacked. کروناوائرس: اصل حقیقت آخر ہے کیا

بجٹ اور ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻣﻼﺯﻣﯿﻦ  کی ﺗﻨﺨﻮﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ