کرونا وائرس کے بارے میں دو امریکی ڈاکٹروں کی نیوز کانفرنس نے امریکہ میں بھونچال مچا دیا


 کروناوائرس کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے، یہ عام فلو سے زیادہ خطرناک نہیں



دو امریکی ڈاکٹروں نے امریکہ میں بھونچال مچا دیا



بیکر فیلڈ کے دو ڈاکٹروں ڈاکٹر ڈین ایرکسن اور ڈاکٹر آرٹن مسیحی کی طرف سے کاروبار کو دوبارہ کھولنے اور معاشرتی معمولات کی بحالی کے مطالبے کے  بعد امریکہ میں سوشل میڈیا کے جنگل میں تو جیسے آگ ہی لگ گئی. ٹویٹر پر 33 ملین فالوورز رکھنے والے ٹیسلا موٹرز کے فاؤنڈر ایلون مسک کی طرف سے ان کے موقف کی حمایت کے ٹویٹ  اور فاکس نیوز پر ان ڈاکٹروں کو بلانے پر طبی حلقوں نے ان کی بھی خوب کھنچائی کی ہے. دوسری طرف یوٹیوب نے اس لہر کو دبانے کے لیے  سنسرشپ کا وہی پرانا ہتھکنڈا ہی استعمال کیا ہے.
ایریکسن اور آرٹین مسیحی دونوں امریکی ریاست کیلیفورنیا کے لائسنس یافتہ معالجین اور بیکرس فیلڈ میں ہنگامی دیکھ بھال مرکز کے شریک مالکان ہیں، انہوں نے گذشتہ دنوں ایک نیوز کانفرنس طلب کی تھی جہاں انہوں نے اپنے ٹیسٹ کے اعداد و شمار پیش کرنے کے بعد کہا تھا کہ ریاست کی طرف سے جھوٹے اعداد وشمار بیان کر کے کورونا وائرس کو سوچ سے کہیں زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرونا سے ہونے والی اموات کی شرح عام فلو سے بھی کہیں کم ہے۔
وہ نیوزکانفرنس کے دوران اسکرب میں ملبوس تھے، ان کا لب و لہجہ منطقی تھا اور موقف سائنسی دلائل پر مبنی تھا.
ڈاکٹروں نے اپنے ٹیسٹ سینٹر کے اعداد و شمار اور اموات کی کم شرح کو مدنظر رکھتے ہوئے معاشرتی دوری اور لاک ڈاؤن کو اب ایک غیرضروری اقدام قرار دیا ہے.
ڈاکٹروں کی نیوز کانفرنس کو مقامی ٹیلی وژن اسٹیشنوں نے براہ راست نشر کیا تھا. اس کی ویڈیو کو یوٹیوب پر لاکھوں بار دیکھا گیا اور اسے سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر بھی کیا گیا ہے. ان کے موقف پر حمایت اور تنقید دونوں طرح کا ردعمل سامنے آیا ہے . بعدازاں یوٹیوب انتظامیہ نے اس وڈیو کو ہٹا دیا.
امریکن کالج آف ایمرجنسی فزیشنز اور امریکن اکیڈمی آف ایمرجنسی میڈیسن نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے "ان غیرذمہ دارانہ  اور بغیر جانچے بیان کیے گئے خیالات کی میڈیکل سائنس میں کوئی اہمیت نہیں، مقامی ہنگامی دیکھ بھال کلینک کے مالکان کی حیثیت سے ، یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دونوں افراد عوام کی صحت کی پرواہ کیے بغیر اپنے ذاتی مالی مفادات کو آگے بڑھانے کے لئے متعصبانہ ، غیر متعلقہ اور فرضی جائزوں پر مبنی اعداد و شمار جاری کررہے ہیں۔"
اس کے جواب میں ڈاکٹر ڈین ایریکسن کا کہنا ہے کہ: "ہم طبی اداروں کے ساتھ جھگڑا کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ ہم نے سویڈن کے کورونا وائرس سے نمٹنے کے طریقہ کار کا مطالعہ کیا ہے، وہاں حکومت  نے لاک ڈاؤن نہیں کیا ہے ، بچے ابھی بھی اسکول جا رہے ہیں، ہاتھ دھونے اور کچھ معاشرتی فاصلے کی سفارش کی گئی ہے لیکن اس پر بھی وہاں کوئی خاص عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ لیکن اس سب کے باوجود اب تک وہاں یہ وائرس قابو سے باہر نہیں ہوا ہے، اسی لیے ہماری تجویز ہے کہ اس کی آزمائش کیرن کاؤنٹی میں بھی کی جاسکتی ہے۔
امریکہ میں پہلے ہی عوامی سطح پر لاک ڈاؤن مخالف رویہ پنپ رہا ہے، وہاں اس نیوز کانفرنس نے ایک نیا بھونچال  مچادیا ہے.

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"کرانچی ہمارا" اور "مرسوں مرسوں" کے شور میں دبی یہ آواز.... ذرا سی توجہ چاہتی ہے.

Gates Foundation, Wuhan Lab and WHO hacked. کروناوائرس: اصل حقیقت آخر ہے کیا

بجٹ اور ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻣﻼﺯﻣﯿﻦ  کی ﺗﻨﺨﻮﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ