موجودہ حقائق کی عکاسی کرتا مشتاق رسول کا ایک افسانہ: خاموش نگاہیں



افسانہ

خاموش نگاہیں 

مشتاق رسول



میں اپنے گھر کی چھت پر کھڑا تھا, پھر اچانک میری آنکھیں اس کے گھر کی طرف جم سی گئیں..
اس کا گھر میرے گھر سے  تھوڑے ہی  فاصلے اور گاؤں کے  جنوب میں بند کے ساتھ ہی تھا،  میری چھت سے اس کے گھر کے سامنے والے کھلے میدان  میں کھڑے لوگ دکھائی دے رہے تھے، جن کی  نظریں اس کے گیٹ پر لگی ہوئی تھیں۔  یہ سب کچھ دیکھ کر میرے ذہن میں طرح طرح کے گمان ابھرنے لگے تھے..اسی اثنا میں، میں نے بند والے راستے سے آنے والی ایمبولینس کو اس کے گھر کے سامنے رکتے ہوئے دیکھا  تو یکایک اس کی ماں کی کہی ہوئی بات میرے ذہن کی وادی میں گونجنے لگی "میرے بیٹے کو دورے پڑتے ہیں  اور اس کی چیخ و پکار گھر کی فضاء کو دہشت انگیز کر دیتی ہے.  پھر وہ چیخ چیخ کر بےہوش ہوکر گرجاتا ہے"
میری اس کی بیٹی سے تھوڑی بہت شناسائی اس وقت ہوئی تھی، جب  وہ بھی ہر صبح ڈیوٹی کی غرض سے علاقے میں ٹرانسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے اسٹاپ تک دو کلو میٹر پیدل  جارہی ہوتی تھی۔ ایک دن میں ڈیوٹی پر  لیٹ ہونے کی وجہ سے بہت تیز قدموں اس سے آگے نکلنے  کی جہد میں تھا، کہ میرے قدموں کی آہٹ سے وہ چونک گئی. جب اس نےمیری طرف  قاتل نظروں سے دیکھا تو میرے اندر کی ساکت فضاء کو جیسے جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ ایک انجانا سا احساس میرے وجود میں کسی سہمے ہوئے معصوم بچے کی طرح  مچلنے لگا.
امی کی انتقال کے بعد میں اپنے گھر میں تنہا رہتا تھا. ایک دن میرے  گھر کے گیٹ پر کسی نے دستک دی، گیٹ کھولا تو وہ نظریں جھکائے  اپنی امی کے ساتھ کھڑی تھی. میں نے انہیں اندر آنے کو کہا ۔گیٹ بند کرتے ہی اپنے سامنے والی ہمسایہ عورت کو اپنی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پایا، مگر  میں نےکوئی پرواہ کئے بغیر گیٹ بند کردیا اور انھیں ڈرائنگ روم میں لا کر بیٹھنے کی استدعا کی تو  اس کی ماں صوفے کے بجائے فرش پر بچھے قالین پر یہ کہتی ہوئی  بیٹھ گئی کہ "بیٹا ہمیں نیچے بیٹھنا اچھا لگتا ہے"   وہ بھی ماں کے ساتھ ہی نیچے قالین پر بیٹھ گئی. میں بھی احتراماً ان کے سامنے زرا سا فاصلے پر بیٹھ گیا ۔ آج اس کی نظریں جھکی ہوئی تھیں۔میں کمرے میں پھیلی خاموشی کو توڑتے ہوئے اس کی  امی سے مخاطب ہوا '"جی اماں جی کیسے آنا ہوا؟""بیٹا ! میرا ایک بیٹا دماغی طور بیمار ہے، اسے دورے پڑتے ہیں اور اسکی چیخ و پکار گھر کے فضاء کو دہشت انگیز کردیتی ہے، یہاں تک کہ وہ بے ہوش ہوکر گر جاتا ہے۔ اسے ہم ایک نیم خیراتی ہسپتال لے گئے، تو انہوں نے ضلعی زکواۃ کمیٹی سے زکواۃ فارم تصدیق کروانے کو دیا ہے ۔ ہم شہر کے حالات سے تنگ آکر، اپنا سب کچھ بیچ کر آپ کے گاؤں میں آئے ہیں ۔ اللہ کے سوا ہمارا یہاں کوئی نہیں ہے۔ کسی نے آپ کا بتایا کہ آپ ہماری مدد کرسکیں گے"اس نے ایک سانس میں بات ختم کرتے ہوتے فارم میری طرف بڑھایا.."جی اماں  جی... آپ کا کام ہو جائے گا"میں نے اس کی ماں کے ہاتھ سے فارم لیتے ہوئے، چور نظروں سے اس کی طرف دیکھا تو وہ توصیفی نگاہ سے بیٹھک کا جائزہ لے رہی تھی ۔ اسکی ماں نے لمبی سانس  بھری تو مجھے یوں لگا کہ جبرِ وقت  نے اس کے سینے میں جیسے نشتر پیوست کر دیا ہوپھر کہنے لگی "یہ میری بیٹی ہے، شہر میں ایک کمیونٹی اسکول میں پڑھاتی ہے" یہ کہہ کر اس کی ماں نے پھر ایک درد بھری آہ بھرتے ہوئےکہا "بس بیٹا... یہ وہ بد قسمت گلشن ہے کہ خزاں جسکا مقدر ہو۔  بہار آتے ہی اس کے دروازے سے لوٹ گئی۔  اس کی شادی کو ابھی ایک سال بھی  نہ ہوا  تھا کہ اس کا شوہر کام ہر جاتے ہوئے  ایک  اندھی گولی کا شکار ہوکر  زندگی کی بازی ہار گیا۔ یہ وہ وقت تھا، جب ایک طرف بہت دنوں سے پولیس نے پورے علاقے کا محاصرہ کر رکھا تھا، تو دوسری طرف ہم گھر میں محصور دہشت گردوں کے رحم و کرم پر تھے.. خوف، دہشت، گولیوں کی بوچھاڑ  اور بارود کی بدبو کی وجہ سے  لوگوں کے حواس خطا ہو چکے تھے۔"اتنا کہہ کر اس کی ماں چپ ہو گئی، شاید اس میں مزید کچھ کہنے کی ہمت نہ رہی تھی..  میں نے لڑکی کی  طرف دیکھا تو آنسو اس کی آنکھوں میں آنسو چمک رہے تھے۔ نہ جانے کیوں میرے گھائل من کی  دردمندی کے  احساسات اسکی آبدیدہ نظروں میں سمو گئے،اس احساس کو وہ سمجھ گئی اور  جیسےجھکی ہوئی نظروں  سے مجھ سے  کہہ رہی ہو "ہم نے پورا گلشن جلتے ہوئے دیکھا ہے اور تم سے ایک مرجھایا ہوا گلاب نہیں دیکھا جاتا... ""اچھا تو بیٹا ہم چلتے ہیں۔" اس کی ماں نے خاموشی کو توڑتے ہوئے کہا"ہاں ؛ جی اماں مگر آپ میرے گھر آئے تو آپ کی کوئی خدمت نہیں کرسکا" میں  شرمندگی سے گویا ہوا"ارے نہیں بیٹا کوئی بات نہیں" ان کے لہجے کی نرمی میں ممتا جھلک رہی تھی"آپ کل مجھ سے فارم لے لیجیے گا" میں نے کہاجب میں نے  گیٹ کھول کر انہیں رخصت کیا تو میری ہمسایہ عورت  نحوست بھری نظروں سے میری  طرف دیکھ  رہی تھی، جیسے  ان کا یوں میرے گھر آنا کوئی  گناہ ہو۔ ہمارے ذہن ہمیشہ شک کے کھونٹے سے ہی بندھے رہتے ہیں...

دوسرے دن میں اپنی ڈیوٹی پر نہیں گیا، فارم  تصدیق کرانے کے لئے یوسی آفس چلا گیا۔ اور شام کو میرے گھر کے گیٹ پر دستک ہوئی گیٹ کھولنے پر دیکھا کہ  اکیلی وہ نظریں جھکائے کھڑی تھی ۔ میں نے  اسے اندر آنے کو کہا۔"نہیں نہیں.. امی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے، میں  فارم لینے آئی ہوں۔" دکھ میں گُندھی اس کی مترّنم آواز، بہتے ہوئے آبشار کی مانند میری سماعت کی پستی میں بہتی چلی گئی۔"اچھا میں فارم لے آتا ہوں"  یہ کہہ کر میں نے کمرے سے فارم لاکر ان کو  دیا۔اس نے میرے ہاتھ سے فارم لے لیا اور  نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی بے زباں خاموش نگاہیں میری نظروں سے ٹکرا گئیں اور یوں لگا جیسے کہہ رہی ہوں"مجھ سے اور میرے خوابوں سے کوئی امید نہ رکھنا اور آنے والے کل تک صبر کرنا، کیونکہ آنے والا کل میری زندگی کا مالک ہے۔ جو چاہے گا، میرے متعلق فیصلہ کرے گا".... اور وہ نگاہوں میں شکریہ ادا کرکے چل دیگیٹ کو بند کرتے ہوئے میری نظر پھر سامنے والی ہمسایہ عورت پر پڑی۔ مجھے یوں لگا کہ ان کا شک اب یقین میں بدل گیا ہو۔
چند لمحوں بعد ایمبولینس کا  سائرن سن کر جب میں باہر آیا تو دیکھا ان کے دروازے پر ایمبولینس کھڑی تھی،  میں ان کی مدد کی غرض سے تیز قدموں امبولینس کی طرف بڑھا تو سامنے والی  ہمسایہ عورت سے ایک عورت کو کہتے سنا "ارے وہ جو ہمارے گوٹھ میں نئی عورتیں آئی ہیں ناں! انہیں کرونا وائرس ہو گیا ہے، ایمبولینس انہی کو لینے آئی ہے۔ وہاں کسی کو نزدیک بھی نہیں آنے دے رہے" یہ سن کر مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا ۔میں نے ان سے بات کی تصدیق کرنے کے لئے پوچھا "کیا کہہ رہی ہیں آپ" میری آواز سنتے ہی دونوں عورتوں میں سے ایک عورت مجھ سے پرے ہٹتے ہوئے دوسری ادھیڑ عمر عورت، جو میری ماں کی سہیلی تھی، سے  کہنے لگی"بیٹا وہ بیوہ عورت جو شہر سے آئی ہے اللہ رحم کرے وہ اور اس کے گھر والے کرونا وائرس میں مبتلا ہوگئے ہیں۔" اس نے مزید کہا "ان کا تو کسی کے گھر آنا جانا نہیں ہے، البتہ اسکی لڑکی کام کرنے شہر جاتی ہے، مگر سنا ہے کہ کچھ دن پہلے  ایران  سے ان کا ایک رشتہ دار آیا تھا، اس نے ان بیچاروں کو بھی کرونا وائرس میں  مبتلا کر دیا ہے"بڑی بی کے خاموش ہوتے ہی ہمسایہ عورت بول اٹھی "ارے ان سے بھی دور رہو، ماں بیٹی کا ان کے پاس بھی تو آنا جانا تھا"انسانیت نے میرے کان اور زبان قید کر رکھے تھے، کچھ نہ کہتے ہوئے میں نے گیٹ بند کردیا اور کمرے میں آکر صوفے پہ بیٹھ گیا.... مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے میرے سب عزیز مر گئے ہوں، اور میں قریب المرگ، زندگی کی قید میں گرفتار تنہا تنہا ماتم کررہا ہوں۔













تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"کرانچی ہمارا" اور "مرسوں مرسوں" کے شور میں دبی یہ آواز.... ذرا سی توجہ چاہتی ہے.

Gates Foundation, Wuhan Lab and WHO hacked. کروناوائرس: اصل حقیقت آخر ہے کیا

بجٹ اور ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻣﻼﺯﻣﯿﻦ  کی ﺗﻨﺨﻮﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ