ٹیکنالوجی کی دنیا کی بادشاہت کے لیے گوگل اور ہواوے میں گھمسان کی جنگ


گوگل بمقابلہ ہواوے
کون جیتے گا ٹیکنالوجی کی یہ جنگ؟


گوگل کو بھول جاؤ... ہواوے لاکھوں سوئچ فون بنانے کے لئے ایک دھماکے دار منصوبہ لا رہا ہے
ہواوے کے لئے یہ ایک بہت اچھا ہفتہ رہا ہے۔ اس کی ابتدا اس خبر کے ساتھ ہوئی ہے کہ اس نے  اپنے فونز کے لئے میپ ٹیکنالوجی کو حاصل کرتے ہوئے ماسٹرسٹروک  کھیلا ہے،  جو گوگل میپ کا ایک حقیقی متبادل ہے

تبہی یہ خبر بھی آئی کہ بڑی بیرونی مارکیٹ میں ہواوے کا اصل چینی حریف ، ژیومی مبینہ طور پر اپنے صارفین کی جاسوسی کررہا ہے۔ اور آخر کار پہلی سہ ماہی میں اسمارٹ فون شپمنٹ کے اعدادوشمار نے اس بات کی تصدیق کی کہ چین میں اپنے مارکیٹ شیئر کے ساتھ اس نے ایپل کو نمبر دو کی پوزیشن حاصل کرنے میں مدد دے کر سام سنگ کے مقابلے میں لا کھڑا کیا ہے

  گوگل کے سافٹ ویئر اور سروسز کو شکست دینے کا خیال جدید ٹیکنالوجی کی دنیا میں اس وقت ناممکنات میں سے ہے, لیکن ہواوے اس خیال کو بدلنے کا ارادہ رکھتا ہے، اس مقصد کے لیے وہ باقائدہ منصوبہ سازی  بھی کر رہا ہے۔ ہواوے کے اہداف میں صرف  گوگل ہی نہیں بلکہ ایپل بھی شامل ہے، اور شاید اس وقت اس کی بہت زیادہ ضرورت بھی ہے. ہواوے کو  سمارٹ فون استعمال کرنے والے ان لاکھوں صارفین کو اپنے جدید اسمارٹ فونز کو تبدیل کرنے یا اپ گریڈ کرنے کے لئے ابھی بہت کچھ کرنا ہوگا، جو گوگل یا ایپل سے جڑے ہوئے ہیں. وہ اس مقصد کے لیے بڑی منصوبہ سازی کے ساتھ مسابقت کے میدان میں موجود ہے.

ہواوے نے بہت جلد اس بات کا ادراک کر لیا ہے  کہ اس کی سابقہ بلیک لسٹ پوزیشن  کے بعد اس کا بین الاقوامی سطح پر سب سے بڑا مقابلہ گوگل کے پلے اسٹور سے  ہے۔ اس کی اپنی ایپ گیلری اب ایپ کا تیسرا سب سے بڑا متبادل پلیٹ فارم بن گیا ہے ، لیکن اب بھی وہ چین سے باہر اپنی راہیں تلاش کرنے میں لگا ہوا ہے۔ سن 2011 میں چین میں لانچ کیا گیا اس کا اسٹور اب کوئی دودھ پیتا بچہ نہیں رہا. لیکن اس کے بین الاقوامی ورژن کی عمر ابھی صرف دو سال ہی ہے

آخر ہواوے ایسا کیوں سوچتا ہے کہ وہ تھوڑا پیچھے ہٹتے ہوئے  توازن کو اپنے حق میں کر  سکتا ہے؟ اس کا جواب ہے چالاکی!

اگرچہ اس پر اسے ناکامی کے طعنے بھی ملیں گے.  اور یہ ایک دلچسپ دوڑ ہے جس میں کامیابی کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ مختصر الفاظ میں کہانی یہ ہے کہ سیکیورٹی اور پرائیوسی کے لحاظ سے بنیادی طور پر گوگل سے مختلف اور بہتر ہونا ہواوے کا مقصد ہے


یہاں ایک ستم ظریفی ہے جسے نظر انداز کرنا ناممکن ہے۔ ہواوے کو امریکی حکومت نے مئی 2019 میں قومی سلامتی کے مبینہ خدشات کے الزام میں بلیک لسٹ کیا تھا۔ جس کے نتیجے میں ، ٹیکنالوجی کا یہ نیا دیو، اپنے نئے فونز کے لئے گوگل تک رسائی کھو بیٹھا ، جس کی وجہ سے  بین الاقوامی سطح پر اس کی فروخت میں ایک بڑی کمی واقع ہوئی۔ اب اس کا جوابی  منصوبہ یہ ہے کہ وہ گوگل کے سیکورٹی اور پرائیویسی کی خامیوں پر فوکس کر کے، اس کے مقابلے میں سیکیورٹی کے لحاظ سے ایک زیادہ محفوظ متبادل پیش کرے۔

گوگل کے لیے کئی بنیادی مسائل میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ ہواوے کی نئی ڈوائسز تک اپنی رسائی کھو چکا ہے، جس کا مطلب ہے اتنے ہی صارفین سے محروم ہو جانے کا خسارہ! اور دوسری طرف ہم جانتے ہیں کہ ایپل ، جو اپنے صارفین کے ڈیٹا منیٹائزنگ پر بہت زیادہ پابندیاں بنائے رکھتا ہے ، نتیجتاً اس کے سسٹم میں اشتہارات کی قدر میں ڈرامائی طور پر کمی آئی ہے... جبکہ اس کے برعکس ، ہواوے ٹیکنالوجی بیچتا ہے: اسمارٹ فونز اور ان کے لوازمات/ایسیسریز ، فائیو جی نیٹ ورکنگ اور اس سے جڑا سامان، انٹرپرائز انفراسٹرکچر ، اور منظم اور محفوظ نگرانی۔ وہ آرام سے پردے کے پیچھے بیٹھ کر دنیا کے سب سے بڑے ایپ پلیٹ فارم پلے اسٹور کی حالت کا جائزہ لے سکتا ہے اور اس بات کا تعین کرسکتا ہے کہ وہ اپنے ایپ پلیٹ فارم کو اس سے بہتر بنانے کے لیے کیا کرسکتا ہے اور اسے کیا کرنا چاہئے؟ گوگل کی نکمی سیکیورٹی اور پرائیویسی تو ویسے بھی سب سے پہلے اس کے ذہن میں آتی ہیں.
سیکیورٹی کے نقطہ نظر سے ، گوگل کے لیے Android کا حد سے زیادہ کھلا ڈھلا ہونا ایک چیلنج ہے، جہاں دنیا بھر کے اربوں صارفین کو ایسی ایپس دستیاب ہیں، جو غیر محفوظ ہیں. حالیہ مہینوں میں، اس امریکی دیو نے پلے اسٹور پر ایپس کی سیکیورٹی اسکریننگ میں بہتری لانے کے لئے ایک کے بعد ایک قدم اٹھایا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ  ایپل کے محفوظ پلیٹ فارم کا متبادل پیش کرنے میں ناکام رہا ہے. صرف اس ہفتے، ہم نے اینڈروئیڈ میلویئر میں دو رپورٹس دیکھی ہیں، جس سے لگتا ہے کہ اس مسئلے میں کمی کے کوئی آثار نہیں ہیں.
گوگل ہمیشہ اپنے جاری سیکیورٹی پروگراموں پر زور دینے کا خواہاں رہا ہے۔ اس ہفتے ایک بار پھر کمپنی نے ان رپورٹوں میں سے ایک کا جواب دیتے ہوئے اس بات کا یقین دلایا کہ "ہم  مسائل کے حل کا کھوج لگانے والی اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لئے کام کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے  اپنی تحقیق  پیش کرنے والوں کو ہم قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں.  ہم ان سبھی ایپس کے خلاف کارروائی کرچکے ہیں، جن کی انہوں نے نشاندہی کی تھی

لیکن سچ یہ ہے کہ سیکیورٹی کا مسئلہ گوگل سے حل نہیں ہو پا رہا۔ پریشان کرنے والے ایڈویئر سے لے کر واقعی بدنیتی پر مبنی خطرناک میلویئر تک، سب گوگل کی سیکورٹی کو شکست دیے ہوئے ہیں۔ ایپل اپنے اسٹور کو بہت زیادہ سختی سے استعمال کرتا ہے۔ یہ کسی بھی حد تک آزاد نہیں ہے ، اس سے یہ ثابت ہوا ہے کہ سیکیورٹی کے لئے زیادہ سے زیادہ لاک اپ اپروچ لے کر  اس مسئلے کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔ اور اس سلسلے میں،  گوگل کے مقابلے میں ہواوے نے زیادہ ایپل کو اپنا رول ماڈل بنایا ہے۔ چینی دیو ہواوے اپنے امریکی حریف سے سبق سیکھ رہا ہے

ایک چینی کمپنی کے بانی رین زینگفی  کہتے ہیں کہ ہم اور  ہمارا خاندان ان کے سمارٹ آلات خود استعمال کرتے ہیں۔ سلامتی سے ہٹ کر ، ہماری رازداری بھی اہم ہے۔ اور یہ بالکل مختلف عنصر ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے فونز کے ذریعے ہمارا کتنا ڈیٹا حاصل کرکے جمع اور استعمال کیا گیا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ہم کس کس کو اور کیا کیا جانتے ہیں، ہم کہاں جاتے ہیں اور کیوں۔ وہ ہم میں سے ہر ایک کی جیب میں حقیقی  جاسوس بن کر بیٹھے ہوئے ہیں

ہمارے ڈیٹا کو بیچے جانے کا معاملہ تب زیادہ واضح ہوا جب امریکی حکومت نے کوروناوائرس سے متاثرہ آبادی سے باخبر رہنے کے مقصد کے تحت  ہمارے فونوں کے ذریعہ جمع کے گئے ڈیٹا کو حاصل کرنے کے لیے موبائل نیٹ ورک کے بجائے مارکیٹنگ کی صنعت کا رخ کیا
پرائیوسی کا یہ معاملہ "پرمشن" کی پیچیدہ دنیا سے جڑا ہوا ہے، اسے سمجھنا اتنا آسان نہیں۔ جب بھی آپ اینڈروئڈ ایپ انسٹال کرتے ہیں تو  وہ ایپ آپ کے فون کی ساری ڈیٹا اور افعال تک رسائی کی اجازت مانگتی ہے۔ جب تک آپ اجازت نہیں دے دیتے تب تک وہ ایپ استعمال نہیں کر سکتے. دنیا بھر میں ایپ ڈویلپرز کے ذریعہ صارفین کے ساتھ یہی کھیل کھیلا جا رہا ہے ، کچھ تو ایسا محض کمائی کی خاطر کرتے ہیں لیکن اکثریت بدنیتی سے آپ کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ایسا کرتی ہے. ڈیٹا مارکیٹنگ کو غلط قرار دیا گیا ہے، لیکن غیر قانونی قرار نہیں دیا گیا

اپنے جوہر میں  گوگل نے ڈیٹا اور مارکیٹنگ مشین کی حیثیت سے ہی  ترقی کی ہے۔ اس کا سارا نظام اسی بنیادی اصول کے ارد گرد گھومتا ہے۔ 

ہواوے سے ذرا پوچھیں: کیا بیجنگ حکومت کی طرف سے پابندیوں میں  بندھی اور امریکہ کی طرف سے بلیک لسٹ کردہ ایک چینی کمپنی  اپنے ڈیٹا اور سافٹ ویئر کی حفاظت کے لئے کچھ بہتر کر سکتی ہے؟ ویسے... ممکنہ طور پر شاید ہاں! 



ہواوے ​​چاہتا ہے کہ اس کی ایپ گیلری "کھلی اور جدید" بن جائے ، لیکن وہ ایپس کو انسٹال کرنے والے صارفین کی سیکیورٹی اور پرائیوسی کو سختی سے بچانا بھی چاہتا ہے۔ پلے اسٹور کو نقصان پہنچانے والے ان مسائل کو حل کرنے کے لئے یہ کمپنی ڈویلپرز کے ساتھ کتنی سختی سے نمٹتی ہے۔ لیکن ہواوے یہ کہتے ہوئے حق بجانب ہے کہ وہ "ڈیٹا کمپنی" نہیں ہے. 

تو ہواوے اس سے مختلف اور اچھوتا کیا کر سکتا ہے؟

سب سے پہلے تو وہ ڈولپرز کی حقیقی شناخت کی تصدیق کرنے کا ارادہ رکھتا ہے. اصلی ناموں کی جانکاری اور جانچ پڑتال کے ساتھ اس نے گوگل سے بہتر کام کرنے کے لئے، سیکیورٹی کو بہتر بنانے کا بھی منصوبہ بنایا ہے ، جس سے خراب سافٹ ویئر اور ان سے جڑے ان خطرات کو بھی جڑ سے ختم کیا جاسکتا ہے، جن سے صارف کا ڈیٹا لیک ہوسکتا ہے۔ 
ہواوے کے منصوبے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ سینڈ باکسنگ پر ایپل کی طرح سخت نگرانی اپناتے ہوئے ایپس کو ہواوے کی ڈوائس پر کس طرح چلایا جا سکتا ہے۔ ہواوے اس حفاظتی نظام کو  اینڈرائڈ کے کھلے ماحول میں نافذ کرنا چاہتا ہے. آپ کا اندازہ درست ہے کہ ہواوے ایپل کی سیکیورٹی کی خوبیوں کو انڈرائڈ میں لانا چاہتا ہے. یہ دراصل ایپل کی طرح ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر پر قابو پا کر فائدہ اٹھانے کا منصوبہ ہے


ہواوے ایپس کے پرمشن اور پرائیوسی کے معاملات کو ایپ ڈولپرز کی بجائے اپنے ہاتھوں میں رکھنا چاہتا ہے. یہ نظام ڈوائس پر اور ڈوائس سے بھیجے جانے والے ڈیٹا کی نگرانی اور اس پر قابو پانے کی صلاحیت کا حامل ہوگا ۔ یہ کمپنی مقامی ضابطوں کی پاسداری کرتے ہوئے علاقائی طور پر بھی ڈیٹا اسٹور کرے گی ، لیکن اس سے زیادہ اہم بات صارفین کو یہ یقین دلانا ہے کہ وہ چین میں سرورز کو ان کا یہ ڈیٹا نہیں بھیجے گی. 


کیا ہواوے کا یہ منصوبہ قابلِ عمل ہے؟
ہوسکتا ہے— کیونکہ یہ  مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں ، اس اہم مارکیٹ میں ایسی تبدیلی کے خلاف مزاحمت پر قابو پانا  اور بلیک لسٹ سے برانڈ کو پہنچنے والے نقصان سے نمٹنا آسان نہیں ہوگا. 


یہ تو طے ہے کہ یہ ڈیٹا اور سیکورٹی کے معاملات پر مبنی  چالاکی اور مہارت  کا کھیل ہے. ہواوے کبھی بھی عوامی سطح پر گوگل پر تنقید نہیں کرے گا ، لیکن وہ چاہے گا کہ اس کھیل میں اسٹیج کے سجاوٹ کا پردہ ایپل کی طرح ہو اور گوگل کی خامیوں اور کمزوریوں سے اپنے او-ایس میں رہتے ہوئے فائدہ اٹھایا جائے.

پیغام  یہ ہے کہ یہ متبادل پیش کرنے کی مارکیٹ ہے، اور ہواوے اس پیغام کے ساتھ سر ملانے کی کوشش کر رہا ہے


ہواوے کے لئے ، یہاں واضح پیغام یہ ہے کہ اگر وہ گوگل نہیں ہوسکتا ہے تو ، اسے ایپل کی طرح ہونے کی ضرورت ہے۔ یہ کام پہاڑ سر کرنے جیسا ہوگا ، لیکن ایسا کر لینے پر ہواوے اپنی کامیابی کی نوید سنا رہا ہوگا کا  کہ اس نے چھے ہزار پانچ سو میٹر بلندی پر ، ماؤنٹ ایورسٹ پر اپنا فائیو-جِی اسٹیشن نصب کر لیا ہے. 

تو ہواوے کے لیے یہ پہاڑ سر کرنا شاید اتنا بھی مشکل نہ ہو، جتنا کہ ہم تصور کرتے ہیں

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"کرانچی ہمارا" اور "مرسوں مرسوں" کے شور میں دبی یہ آواز.... ذرا سی توجہ چاہتی ہے.

Gates Foundation, Wuhan Lab and WHO hacked. کروناوائرس: اصل حقیقت آخر ہے کیا

بجٹ اور ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻣﻼﺯﻣﯿﻦ  کی ﺗﻨﺨﻮﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ