ملیر کی صدائے بے نوا. آدرش کے قلم سے


ملیر کی صدائے بےنوا

تحریر: آدرش


ایک دن پہلے ایک واٹس ایپ گروپ سے ایک آواز صدا بن کر گونجی، جس میں ملیر کا ایک معزز انسان اپنے درد کو زبان دے رہا تھا. اس آواز میں درد تھا، مگر یہ درد کسی ایک شخص کا نہیں، یہ درد پورے ملیر کا ہے. ملیر کی زمین کے اجڑے ہوئے ایک ایک حصے کا درد، جہاں کبھی زمین سے سونا اگلتا تھا، آج بےبسی جھلکتی ہے.

آواز کا جو بیان تھا وہ اس طرح کا تھا کہ ملیر میں سرکار نے گٹر کے پانی سے زراعت کرنے والے ایک غریب کسان کی فصل تلف کر دی، اس کسان نے دن رات محنت کر کے وہ زمین آباد کی تھی. مگر یکلخت ایک فیصلے سے اس کی ساری محنت کو تاراج کردیا گیا، جس میں اس کا خون پسینہ شامل تھا. ملیر میں گٹر کے پانی سے فصلیں کاشت کرنے والے بہت کم کسان ہوں گے، جو  نہ چاہ کر بھی ایسا کرنے پر مجبور ہیں. سوال یہاں یہ بھی اٹھتا ہے کہ جس پولیس نے آج یہ فصل تاراج کی ہے، اسی نے ہی تو اپنی نگرانی میں ملیر کی سونے جیسی ریتی بیچ کر ملیر کی زمین کی شریانوں سے پانی کی ایک ایک بوند کو نچوڑا ہے! آخر سطح پر تیرنے کی بجائے، کوئی گہرائی میں جا کر اس سوال کا جواب کیوں نہیں ڈھونڈتا کہ یہ نوبت آئی کیوں اور کس کی وجہ سے...

دوسری طرف دیکھا جائے تو جنہوں نے گٹر سے زراعت کی شروعات کی، وہ آج بھی اسی انسانی فضلے کی پانی سے فصلیں کاشت کر رہے ہیں، ان کی فصلیں کوئی بھی تلف نہیں کر سکتا، کیونکہ وہ طاقت کا منبع جو ٹھہرے.

یہی کمشنر  ذرا کراچی کے کینٹ ایریاز میں جا کر ایسا کرنے کی جرات تو کر کے دکھائے،  لگ پتہ  جائے کہ قانون کے سو میں کتنے بیس ہوتے ہیں.

ٹھیک ہے، غریب کی فصلیں تلف کرنے کے عمل کی توجیہہ عدالتی فیصلہ ہے، لیکن یہ توجیہہ پیش کر کے آپ کس کو دھوکہ دے رہے ہیں؟ آخر اس فیصلے پہ عملدرآمد ایک غریب کسان کی فصل تباہ کرنے تک ہی محدود کیوں... لیکن آخر میں ایک ایسے ملک میں یہ سوال کیوں اور کس سے کر رہا ہوں، جہاں قانون امیروں اور طاقتوروں کے بستر کی زینت بن چکا ہے.

اس ملک میں قانون کے سارے قلم اور سارے ڈنڈے غریب پر ہی لاگو ہوتے اور برستے ہیں. ابھی کل ہی کی تو بات ہے.. ملیر ہی میں ایک  فیض محمد گبول تھا، جس کی زمین پر ایک بلڈر دن دہاڑے  بہ زور طاقت آ کر قبضہ کرتا ہے، کورٹ فیض محمد گبول کے حق میں فیصلہ دیتی ہے، مگر کوئی بھی اس فیصلے پر عملدرآمد نہیں کرا سکتا کیونکہ سامنے ریاستی طاقتوں کا لالڈلہ جو ٹھہرا.. اور آج  ایک غریب کسان فیض محمد بلوچ کی محنت کو ایک فیصلے کی بنیاد پر تلف اور تاراج کیا جاتا ہے، کیونکہ جہاں اس فیصلے کو اصل میں لاگو ہونا ہے، وہاں اس قانون کو پر مارنے کی بھی اجازت نہیں..  تو یقیناً اس دیسِ بے اماں میں مشقِ ستم کا نشانہ ایک غریب کسان فیض محمد کو ہی ہونا تھا.

آج خودغرضی، چاپلوسی، چمچہ گیری کے اس دور میں ملیر ایک بہت بڑی طبقاتی تفریق سے گذر رہا ہے، اب یہاں فیض محمد گبول ہو یا کسان فیض محمد بلوچ، ان کی کوئی نہیں سنتا.

ملیر کی قسمت میں ایک طرف خودغرض عقل سے خالی سرمایہ دار سیاست دان لکھے ہیں، تو دوسری طرف ملیر کی زمینوں کی تاک میں بیٹھے بہت بڑے مگرمچھ.

اس سارے سانحے میں قصور نہ تو کمشنر کا ہے اور بہ ہی فیصلے کا... قصور تو صرف ملیر کے اس غریب کسان کا ہے... جب وہ ہل چلا کر قدرتی طریقے سے زراعت کرتا تھا، تب تو اس ریاست نے پہلے اس کی زمینوں کو سیراب کرتی بارانی ندیوں سے ریتی بجری نکال کر ندیوں جی چھاتیاں خشک کر دیں، جب ندیوں میں اس زمیں کو سیراب کرنے کی طاقت نہ رہی اور اس غریب کا کنواں خشک ہو گیا، تب قانون کو انسان یاد آئے اور انسانوں کی صحت یاد آئی.. جب اس غریب کسان  نے دیکھا کہ فوجی چھاونیوں کے قریب گٹر کے فضلے سے زراعت کی جا رہی ہے تو اس نے بھی اپنے بچوں کی روزی روٹی کے لیئے گٹر کے فضلے سے فصلیں کاشت کرنا شروع کیں، آج اس کی فصل تو تلف کر دی گئی مگر چھاؤنیوں کے اندر اور ان کے قریب موجود گٹرزدہ فصل اب بھی قانون کی دسترس سے باہر ہے


قصور فیض محمد گبول یا کسان فیض محمد بلوچ کا نہیں، قصور اس سسٹم کا ہے جہاں ان کے زمینوں، ان کی ندیوں، ان کے پہاڑوں، ان کی چراگاہوں کا تحفظ نہ ریاست کرتی ہے، نہ ہی ان کے ووٹوں سے منتخب  اسیمبلیوں اور ایوانوں میں بیٹھے نمائندے کرتے ہیں

جب ملیر میں زراعت اپنے جوبن پر تھی تو کسی نے بھی اس زراعت ، کسانوں اور زرعی زمینوں کے تحفظ کا نہ سوچا. اگر یہاں ایک حقیقی ریاست ہوتی تو شاید ملیر کی زراعت کو تحفظ کے لیئے سخت گیر قانون بنائے جاتے، ملیر میں درختوں کے کٹنے پر سخت قانون ہوتے، ندیوں کے تحفظ، ندیوں میں موجود قیمتی ریتی بجری کے اٹھانے چوری کرنے اور اسے کنسٹرکشن کی مد میں استعمال کرنے پر سخت قانون ہوتے، ملیر کا پورے علاقے کو زرعی اور سیاحتی زون بنا کر اس کی ترقی اور خوبصورتی کے لیئے کام ہوتا، مگر افسوس اس  ریاست  کے ایوانوں میں بیٹھے ہمارے ہی منتخب نمائندوں نے ملیر کا سودا زمین فروشوں سے ارزاں نرخوں میں کر دیا

پہلے تو باقائده ایک منصوبہ بندی کے تحت ملیر کی زمینیں بنجر بنا دی گئیں، پھر ان بنجر زمینوں پر کنکریٹ کی بستیاں بننے لگیں، پھر ان ندیوں کی عقب میں ملیر کی زرعی زمینوں پر ملیں، فیکٹریاں بننے لگیں، ان ملوں اور فیکٹریوں سے بہننے والے کیمیکل کے فضلے سے ملیر کی زمینیں زہر آلودہ ہونے لگی ہیں ـ 


ہم سالوں سے چیخ رہے ہیں کہ ملیر ندی کے ساتھ جو فیکٹریاں بنائی گئی ہیں، ان کو بند کیا کیا جائے... ان میں سے جو کیمیکلز زدہ پانی زہر بن  کر نکل رہا ہے، وہ آس پاس زیرِ زمین پانی کو بھی زہر آلود کر رہا ہے.


ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان فیکٹریوں پر پابندی لگا دی جاتی اور Graywater کے لیے ٹریٹمنٹ پلانٹ لگائے جاتے اور یہی پانی زراعت کے لیے استعمال میں لایا جاتا، جو پوری دنیا میں رائج ہے. اس سے دو فائدے ہوتے ایک یہ کہ سمندر بھی محفوظ رہتا اور Graywater کا  بڑے پیمانے پر استعمال ہونے سے کراچی کی زراعت بھی بچ جاتی۔ لیکن بسا آرزو کہ خاک شد...

عظیم دہقان اور اس جیسے کئی اور زمیندار کنوؤں میں پانی ہونے کے باوجود گٹر کے پانی سے زراعت کرنے پر کیوں مجبور ہیں؟ کیا کبھی کسی نے سوچنے کی یا پوچھنے کی زحمت کی ہے؟؟؟


نہیں نا..... کیونکہ ملیر ندی کے آس پاس سو سے زیادہ کنویں ان فیکٹریوں سے نکلنے والے Darkwater سے گدلے ہو چکے ہیں، جو نہ زراعت کے لیے موزوں ہیں اور نہ ہی ان کا پانی پینے کے قابل ہے


جب یہاں نہ سسٹم غریب دوست ہے نہ کسان دوست نہ مزدور دوست، جب یہاں لیڈر سے لیکر وڈیرا، واجہ، سردار، سرمایہ دار گدھ بنے بیٹھے ہوں وہاں استاد عظیم دہکان کی آواز کون سنے؟ وہاں فیض محمد گبول یا فیض محمد بلوچ کی فریاد، چیخ پکار کون سنے؟

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"کرانچی ہمارا" اور "مرسوں مرسوں" کے شور میں دبی یہ آواز.... ذرا سی توجہ چاہتی ہے.

Gates Foundation, Wuhan Lab and WHO hacked. کروناوائرس: اصل حقیقت آخر ہے کیا

بجٹ اور ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻣﻼﺯﻣﯿﻦ  کی ﺗﻨﺨﻮﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ