شہید پروفیسر صبا دشتیاری کی یاد میں


شہید صبا دشتیاری کی یاد میں
شہادت یکم جون 2011
مشتاق رسول


غلام حسین، جسے دنیا  شہید صبا دشتیاری کے نام سے جانتی ہے۔  شہید  پروفیسر صبا دشتیاری کراچی کے علاقے ماڑی پور  میں  2 ستمبر  1953 کو محمد عثمان کے گھر میں پیدا ہوئے۔ بعد میں ان کے بزرگ لیاری کےعلاقے بغدادی میں آکر سکونت پذیر ہوئے۔  

شہید صبا دشتیاری  نے ابتدائی تعلیم عیسی' جمال پراٸمری اسکول نیا آباد لیاری سے حاصل کی، بعدازاں اوکھائی میمن ہائی اسکول کھارادر  سے 1971 میں میٹرک کیا ۔ 1973 میں ایس ایم کالج سے کامرس کی ڈگری لینے کے بعد وہ اپنی تعلیمی تشنگی کو بجھانے کی خاطر مدرسہ المرکز اسلامی میں داخل ہوئے ۔ 1978 تک وہ اسی مدرسے میں زیر تعلیم رہے، جہاں سے انہوں نے تفسیر، فقہ، حدیث جیسے شمع علم سے روشنی پائی۔ دینی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ شام کے وقت صباء صاحب اپنی مزید تعلیمی پیاس کو بھجانے کے خاطر خانہ فرہنگ ایران میں بھی چار سال تک جاتے رہے اور ان چار سالوں میں انہوں نے فارسی زبان و ادب پر دسترس حاصل کی۔


کہتے ہیں کہ اگر کسی کو علم کی پیاس لگ جائے تو یہ پیاس بجھائے نہیں بجھتی۔  یہ بات صبا دشتیاری پر بلکل صادق آتی ہے، علم کی وادیاں اس کے پیاسے ذہن کی تلاش کے لیے دشتِ سیاحی بن گئیں. اسی سفرِ تلاش میں صبا نے  فرسٹ ڈویژن اسلامک اسٹڈیز میں ایم اے کی ڈگری بھی حاصل کی۔


پیشے کی لحاظ سے صبا دشتیاری محکمہء تعلیم میں پہلے بطور پراٸمری استاد مقرر ہوئے اور 80 کی دہائی میں وہ بلوچستان یونیورسٹی میں اسلامک اسٹیڈیز کے پروفیسر بنے، جہاں جام شہات نوش کرنے تک اسلامی فلسفے کا مضمون پڑھاتے  رہے۔

ادبی خدمات کے حوالے سے ان کے نقوش ہمیں  یوں ملتے ہیں کہ شہید صبا دشتیاری نےاپنے دل و دماغ کی کیفیت کی عکاسی کے لیے ابتدا میں اردو شاعری کو ذریعہء اظہار بنایا۔ اسی طرح وہ  1969 تا 1982 اردو زبان سے منسلک رہے، لیکن بہت جلد ندیم اختر اور عبداللہ جان جمالدینی کی صحبت نے انہیں اپنی  مادری زبان بلوچی کی طرف راغب کیا۔  بلوچی زبان کے معروف شاعر عابد آسکانی صبا دشتیاری کو بلوچی پڑھاتے رہے۔ پروفیسر صبا دشتیاری نے بلوچی زبان و ادب میں  قومی سطح پر جو  لافانی  و انمٹ نقوش چھوڑے، وہ اپنی مثال آپ ہیں. ان کی خدمات کو سمیٹ کر ایک نشست میں  پیش کرنا ناممکن نہیں، تو اس قدر آسان بھی نہیں ہے ، سچ تو یہ ہے کہ انہوں نے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیے، ایسے کام ایک ادارے کی صورت میں ہی انجام دیے جاتے  ہیں، اس لیے اگر ہم ان کی شخصیت اور خدمات کو مختصر الفاظ میں بیان کریں تو صبا ایک شخص کے روپ میں ایک ادارہ تھا.

ان کے طالبِ علموں کے بقول پروفیسر ﺻﺒﺎ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﯼ  ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﺗﮭﮯ، ﺟﻦ ﮐﮯ ﮔﺮﺩ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﻤﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﺠﻤﻊ ﻟﮕﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔

انہوں نے  بلوچی  زبان کی ترقی و ترویج کے لئے دن رات ایک کئے اور بلوچی زبان و ادب پر تحقیق کو اپنا نصب العین بنایا۔ انہوں نے بلوچی زبان میں شاعری کے ساتھ ساتھ کٸی افسانے بھی لکھے. أپ کے مشہور افسانوں میں جنءِ وجود، گژن و مہر، آس ءُ آسیب، ونڈ ءُ مسیت، ارمانءِ مرگ شامل ہیں۔ان کے افسانوں کا موضوعات معاشی پسماندگی، ناخواندگی، غربت، طبقاتی نابرابری، ناانصافی، ظلم و جبر، حقوق نسواں کی پامالی، وطن دوستی رہے، جو بلاشبہ انہوں نے ہر حساس ادیب کی طرح اپنے ماحول سے ہی اخذ کیے 

خاص طور پر ان کے افسانے "ارمانءِ مرگ" میں معاشرتی رنگ  زیادہ نمایاں ہے، ویسے تو یہ افسانہ مرکزی کردار مھگنج کے گرد گھومتا ہے، لیکن اصل میں ان دوشیزاٶں کی علامت ہے، جو اپنی خواہش اور مرضی کے خلاف کسی سے بیاہ دی جاتی ہیں۔ اور وہ بے بسی کے عالم میں خاموشی اختیار کرکے اپنے وجود کو فرسودہ  رسموں اور ریتوں کی قبر میں اپنے ہاتھوں سے دفنا دیتی ہیں۔


صبا دشتیاری کے گراں قدر کارناموں میں  سید ظھور شاہ ریفرنس لائبریری کا قیام ہے۔ سیدظہورشاہ ہاشمی ریفرینس لائبریری میں اس وقت بیس ہزار سے زائد کتاب موجود ہیں

صبا  24 سے زائد کتابوں کے منصف ہیں، جس میں اردو اور  بلوچی تصانیف شامل ہیں۔ان کی مشہور کتابوں میں "ھون ءُ ھوشام"  1994 ترانگانی بنزہ 2001 ، آسءُ آسیب 2006، انگریں واہگ، ﮔﻠﮑﺎﺭ ﭼﮑﻨﮑﺎﺭ وغیرہ شامل ہیں

صباء دشتیاری کے اردو تصانیف میں ”فلسفہ اسلام و یونان“ قابل تعریف ہے. اس کتاب میں دشتیاری صاحب اسلامی فلسفہ کو زیر بحث لائے ہیں اور یونانی فلسفہ پر بھی گہری اور طائرانہ نظر ڈالی ہے۔ اسکے علاوہ  انڈکس اور بلوچی  ادب پر بیبلوگرافی بھی  اہمیت کی حامل ہے۔

پروفییسر صبا دشتیاری کو کوئٹہ میں یکم جون 2011 کو نامعلون افراد نے فائرنگ کرکے شہید کردیا۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہےکہ شہید صبا دشتیاری جیسے ذی شعور افراد نے بنیء آدم کے ذہنوں میں شعور کی جو شمع روشن کی ہے، اسے  کوٸی بھی مات نہیں دے سکا۔ شہید صبا دشتیاری اس بات سے  بخوبی واقف تھے کہ شعور اور سچائی کو ہمیشہ پھانسی کے گھاٹ اتارا اور زہر کا پیالہ پلایا ہے، مگر وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اس پیالے میں زہر تھا ہی نہیں، ورنہ سقراط کب کا مرگیا ہوتا۔ صپا نے خود باد صبا کو پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ

”کٸے وتی واہگاں پاہو دنت۔۔
من تراں دل نہ بیت گندے... "

شہید صبا دشیاری کی زندگی سے ہم یہ جان سکتے ہیں کہ وہ علم کا ایک اتھاہ سمندر تھا، بقول شاعر
باز باید عقل و فہم بی قیاس

تاشود خاموش یک حکمت شناس

شہید صبا نے  یہ بھی ثابت کر  کے دکھایا کہ آدمی محنت کرنے سے اپنی قوم اور سرزمین کو بہت کچھ دے سکتا ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"کرانچی ہمارا" اور "مرسوں مرسوں" کے شور میں دبی یہ آواز.... ذرا سی توجہ چاہتی ہے.

Gates Foundation, Wuhan Lab and WHO hacked. کروناوائرس: اصل حقیقت آخر ہے کیا

بجٹ اور ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻣﻼﺯﻣﯿﻦ  کی ﺗﻨﺨﻮﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ