طیارہ حادثہ: وہاں موجود لوگوں نے کیا دیکھا



جمعہ 22 مئی کو کراچی ایئرپورٹ کے قریب پی آئی اے کے بدقسمت  ایئر بس اے 320 مسافر طیارے کے آبادی پر گر کر تباہ ہونے کا انتہائی افسوس ناک حادثہ پیش آیا

یہ آبادی کراچی ائرپورٹ کے قریب واقع ماڈل کالونی سے بلکل متصل ہے اور جناح گارڈن کہلاتی ہے. اس سے ملحق روڈ کے ساتھ کاظم آباد واقع ہے. ائرپورٹ سے بلکل قریب ہونے کی وجہ سے اس علاقے کے رہائشیوں کے لیے ہوائی جہازوں کی بلکل نچلی پرواز ایک عام سی اور معمول کی بات ہے۔ یہاں بلند مکانات بنانے پر پابندی عائد ہے ، اسی لیے لگ بھگ ہر گھر کی چھت سے ایئرپورٹ دکھائی دیتا ہے


عینی شاہدین کے مطابق طیارے نے گر کر تباہ ہونے سے پہلے دو سے تین بار لینڈ کرنے کی کوشش کی تھی

جناح گارڈن کے مکین رضا محمد نے بتایا کہ وہ مسجد میں  تھا کہ اچانک اسے شور سنائی دیا.. لوگ چلا رہے تھے کہ جہاز آ رہا ہے اور اس میں سے دھواں نکل رہا ہے. میں گھبرا کر جیسے ہی باہر نکلا تو دیکھا کہ ایک جہاز جو زمین سے آدھا کلومیٹر سے بھی کم فاصلے کی بلندی پر تھا، ایک دم  گھروں کے بلکل اوپر آ کر گر گیا

علاقے کی  ایک رہائشی ڈاکٹر کنول ناظم نے بتایا کہ وہ اپنے گھر میں موجود تھیں، پونے تین بجے کے قریب انہیں ایک زوردار دھماکہ سنائی دیا. باہر نکل کر دیکھنے پر گلی کے نکڑ پر واقع بلال  مسجد کے ساتھ تین گھروں سے کالے دھوئیں کے بادل اٹھتے نظر آئے، لوگ اس جگہ کی طرف دوڑ رہے تھے ۔ چیخ و پکار کی آوازیں آ رہی تھیں

وہاں موجود  عینی شاہد شکیل احمد کا کہنا ہے کہ اس نے ایئرپورٹ سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر طیارے کو پہلے ایک موبائل ٹاور سے ٹکراتے دیکھا اور اس کے فوراً بعد طیارہ گھروں پر گر کر تباہ ہوگیا

عینی شاہدیں  سے ملنے والی معلومات  کے مطابق پرواز کو دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ پائلٹ نے آبادی کو بچانے کی بھی کوشش کی تھی، اور یقیناً انہوں نے آخری وقت تک طیارے اور آبادی کو بچانے کی کوشش کی ہوگی 

ان کے مطابق طیارہ گرنے سے پہلے بائیں جانب جھکا اور پھر طیارے کی دُم زمین سے ٹکرائی. اس کے بعد طیارہ توازن اور کنٹرول کھو بیٹھا اور ملیر چھاؤنی کے گیٹ نمبر دو کے سامنے واقع آبادی پر گرا، جس کی وجہ سے وہاں گھروں اور گلی میں کھڑی گاڑیوں میں آگ بھڑک اٹھی

ایک علاقہ مکین نے سنگت میگ سے بات کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ جہاں یہ آبادی واقع ہے، وہ علاقہ دراصل ائرپورٹ کے لینڈنگ ایریا میں شامل ہے. اسی لیے تو جہاز یہاں اتنی نچلی پرواز کرتے ہیں کہ نیا بندہ ان کو دیکھ کر ہی خوفزدہ ہو جائے. لینڈنگ ایریا میں شامل اس علاقے پر لینڈ مافیا نے قبضہ کر کے پلاٹ بنا کر بیچ دیے تھے، دکھ اور تکلیف اپنی جگہ لیکن ایسے حادثات سے ہمیں کچھ سبق بھی حاصل کرنا چاہیے اور پیسوں کی لالچ میں انسانی جانوں کو داؤ پر لگانا بند کر دینا چاہیے. انہوں نے کہا کہ حکومت نے حادثے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے، میرا خیال ہے کہ اس پہلو  پر بھی تحقیقات ہونی چاہئیں. 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"کرانچی ہمارا" اور "مرسوں مرسوں" کے شور میں دبی یہ آواز.... ذرا سی توجہ چاہتی ہے.

Gates Foundation, Wuhan Lab and WHO hacked. کروناوائرس: اصل حقیقت آخر ہے کیا

بجٹ اور ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻣﻼﺯﻣﯿﻦ  کی ﺗﻨﺨﻮﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ