واجہ یوسف نسکندی کی برسی کے موقع پر خراجِ تحسین. مشتاق رسول


واجہ یوسف نسکندی

(وفات  17مٸی 2006)

مشتاق رسول
ــــــــــــــــــــــــــــــ

واجہ یوسف نسکندی کا تعلق دانشوروں کےاس حلقے سے تھا، جو حکمرانوں کی حمایت کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ دربارِ شاہاں کی چوکھٹ کبھی ان کے قدموں کا لمس نہ پا سکی. واجہ یوسف، ایرانی بلوچستان کے علاقہ نسکندی میں پیدا ہوۓ، یہی نسبت انہوں نے ہمیشہ اپنے نام کے ساتھ قائم رکھی اور یوسف نسکندی کہلائے. وہ اپنے آبا و اجداد کے ہمراہ روزگار کے سلسلے میں پاکستان ہجرت کرکے گل محمد لین لیاری میں رہاٸش پذیر ہوۓ ۔ غریب خاندان سے تعلق تھا، اس لیے معاشی مشکلات کی وجہ سے پراٸمری تعلیم کے بعد مزید تعلیم حاصل نہ کرسکے. اگرچہ وہ زیادہ تعلیم یافتہ نہ تھے، لیکن باوجود اس کے وہ ایک اعلی' پائے کے مفکر ، دانشور ہونے کے ساتھ ساتھ مخلص و نڈر سماجی و سیاسی رہنما بھی تھے ۔

واجہ یوسف نسکندی نے اپنی زندگی انسانی آزادی کی جہدوجد کے لیۓ وقف کر رکھی تھی۔  انکی فکر ساٸنسی مارکسی اور ترقی پسندانہ تھی ۔ بلوچ راج  کے لیے انکا اہم کردار رہا ہے۔ کراچی کے بلوچوں میں فکری بیداری اور وطن سے وابستگی انہی کی مرہون منت ہے۔

یوسف نسکندی کی زندگی کے کٸی پہلو ہیں اور وہ کٸی خوبیوں کے بھی مالک تھے. علمی مباحث ہوں۔ قومی تحریکیں یا ثقافتی سرگرمیاں ہوں یا پھر  بلوچی سنگیت کی ترویج ہو، ان سب سرگرمیوں میں ہمیشہ  واجہ نسکدی کا  کنٹری بیوشن نمایاں رہا ۔  نسکندی صاحب  بیک وقت مارکسزم، لیننزم، پاکستانی سیاست، ایرانی سیاست، عالمی سیاست اور بلوچ، بلوچ و بلوچستان، پاکستان اور ایران کی تاریخوں کے عالم تھے۔ ان موضوعات پر انسائکلوپیڈیا اور اتھارٹی کی حیثیت سے جانے جاتے تھے. یوسف نسکندی بلوچ قومی تحریکوں سے تعلق رکھنے کی پاداش میں کٸی مرتبہ پابندِ سلاسل بھی ریے۔ ان کے کٸی فلاحی و سیاسی کارناموں میں سے ایک کارنامہ یہ ہے کہ وہ کراچی کے بلوچوں کو بیدار کرنے اور ان میں قومی یکجہتی پیدا کرنے کے لیے بلوچ راٸٹس کونسل کا قیام عمل میں لائے اور اس میں متحرک کردار ادا کیا۔

یوسف نسکندی 75 سال کی عمر میں 17مٸی 2006 کو وفات کر گٸے۔ اگر ہم نسکندی صاحب کی زندگی کا جاٸزہ لیں تو ہم یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ ایک ایسے معاشرے کا قیام ان کا خواب تھا جہاں چند لوگوں کی اشرافیہ کے ہاتھوں کمزور انسانوں کا استحصال نہ ہو۔ آج 17 مٸی ان کی وفات کا دن ہے ، آٸیں ہم سب  یوسف نسکندی کے اس خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے ان کے نصب العین پر چلنے کا عہد کریں... 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"کرانچی ہمارا" اور "مرسوں مرسوں" کے شور میں دبی یہ آواز.... ذرا سی توجہ چاہتی ہے.

Gates Foundation, Wuhan Lab and WHO hacked. کروناوائرس: اصل حقیقت آخر ہے کیا

بجٹ اور ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻣﻼﺯﻣﯿﻦ  کی ﺗﻨﺨﻮﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ