ایسی شہکار نظمیں بہت کم پڑھنے کو ملتی ہیں


یہ ایک شہکار نظم ہے اور ایسی شہکار نظمیں بہت کم پڑھنے کو ملتی ہیں، یہ نظم ہے نزار قبانی کی



شام میں پیدا ہونے والے نزّار قبانی عرب دنیا کے  انتہائی مقبول شاعر ہیں۔ انہوں نے بہت لکھا اور بہت ہی خوب لکھا. ان کی شاعری کو دنیا کی کئی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا. ان کی اصل پہچان ان کی رومانوی شاعری ہے. وہ خود کہتے ہیں کہ محبت ان کے لیے  بلکل ایسے ہی فطری ہے، جیسے کہ سیب کے لیے مٹھاس ہوتی ہے. لیکن یہاں ان کی وہ شاہکار نظم پیش کی جا رہی ہے، جس میں وہ اپنی مخصوص شناخت سے ہٹ کر ایک الگ ہی رنگ میں نظر آتے ہیں

اس نظم  کے وسیع و عریض کینواس میں انہوں نے کمال کے رنگ بھرے ہیں، ماضی کی تاریخ، حال کا احوال اور مستقبل کا نقشہ، ایک ہی نظم میں اتنی تفصیلات کو شعری انداز میں بیان کرنا نذار قبانی کا ہی خاصہ ہے، اس نظم میں انہوں نے  عرب سماج کے تضادات کو کمال مہارت اور سچائی کے ساتھ بیان کیا ہے.



ان کی کیا قدر
جن کی زبانیں بند ہیں
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ


خبر یہ لایا ہوں میرے دوست!
پرانی زبان مر چکی ہے
قدیم کتابیں بھی

ہماری باتیں
کثرت استعمال سے گِھس جانے والے جوتوں کی طرح
جگہ جگہ سے پھٹ چکی ہیں

وہ الفاظ بھی مر چکے ہیں
جو تحقیر، تہمت اور توہین کا ذریعہ بنے...
خبر یہ لایا ہوں
ہماری سوچ کا وہ انداز بھی مر گیا ہے
ختم ہوگیا ہے
جو ہماری شکست کا سبب بنا

ہماری زبان پر تلخی ہے
شاعری کا ذائقہ ہمارے منہ کو زیب نہیں دیتا،
سنوری ہوئی زلفیں
آنکھوں میں چبھتی ہیں،
جھلملاتے نقاب
ننگی ٹانگیں، روشن راتیں
تمام نظارے تکلیف دیتے ہیں..

میرے دکھی وطن!
تو نے رات ہی رات میں
مجھے، جو محبت کے گیت
اور جدائی کے نوحے لکھتا تھا،
لہو میں قلم ڈبونے والا شاعر بنا دیا!

جذبات صفحات سے بہت آگے نکل گئے ہیں
ہم اپنی شاعری پر شرمسار ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے

ہم اگر جنگ ہار گئے ہیں
تو کوئی حیرت کی بات نہیں
ہم اس جنگ میں
اپنی خداداد مشرقی خطابت
اور نعرہ بازی کے ہتھیاروں سے شریک ہوئے
جو ایک مکھی بھی نہیں مار سکتے
ہم اس جنگ کے میدان میں
طبلے اور رباب کی منطق کے ساتھ اترے تھے

ہمارا المیہ یہ ہے
ہماری آوازیں ہمارے شعور سے زیادہ بلند
اور ہماری تلواریں ہمارے قد سے زیادہ لمبی ہیں

خلاصہ ایک جملے میں یوں ہے
ہم نے تہذیب کے نقاب اوڑھ رکھے ہیں
مگر ہماری روحیں دقیانوسی ہیں

نفیری اور بربط سے
کوئی جنگ جیتی نہیں جاسکتی

یہ ہماری فی البدیہہ تقریروں کی برجستگی کا خمیازہ ہے
کہ ہمارے سامنے
پچاس ہزار نئے خیمے پھیلا دیے گئے ہیں

حالات کو الزام نہ دو
آسمانوں پر بھی تہمت نہ لگاؤ
وہ تمہیں چھوڑ بیٹھے ہیں
خدا، جو جسے چاہے فتح سے ہمکنار کر دے
کوئی لوہار نہیں ہے،
جو تمہارے لئے تلواریں تیار کرے..

خبریں سنتے وقت مجھے سخت تکلیف ہوتی ہے دکھ ہوتا ہے
جب کتوں کو بھونکتے سنتا ہوں

صیہونیوں نے ہماری سرحدیں عبور نہیں کیں
وہ تو ہماری خامیوں اور غلطیوں کے سوراخوں سے
چیوٹیوں کی طرح در آئے ہیں

پانچ ہزار سال ہم نے  اندھیرے تہہ خانوں میں گزار دیے ہیں
ہماری داڑھیاں بڑھی ہوئی ہیں
سکے بے قیمت ہو چکے ہیں
ہماری آنکھیں
مکھیوں کی پناہ گاہیں ہیں

دوستو!
دروازے توڑنے کی کوشش کرو
لباس دھونے
خیالات کو نہلانے کی سعی کرو،
دوستو!
کوئی کتاب پڑھو
کوئی کتاب لکھو
انگور، انار اور الفاظ کاشت کرو
برف اور دھند کی منزلوں کے لیے بادبان کھولو
تہہ خانوں سے اوپر کی دنیا تمہیں نہیں جانتی
تمہیں بھیڑیوں کی قسم کی چیزیں سمجھتی ہے

ہماری چمڑی بے حس ہوچکی ہے
ہماری روحوں کا دیوالیہ پٹ چکا ہے
ہماری زندگی شطرنج، توہمات اور غنودگی سے عبارت ہے
کیا ہم دنیا کی بہترین قوم ہیں؟

تیل، جس سے ہمارے صحراؤں کے پاتال لبریز ہیں
ایک آتشناک بھالے کی طرح استعمال کیا جا سکتا تھا
مگر شرفائے قریش، عمائدین عوث
اور معززین نزار کو شرم آنی چاہیے
اسے لونڈیوں کے قدموں میں بہا دیا

ہم بغلوں میں کمندیں دبائے
گلیوں میں دندناتے پھرتے ہیں،
بلا سوچے سمجھے چیختے اور چلاتے ہیں،
بےسبب کھڑکیاں اور دروازے توڑتے ہیں،
مینڈکوں کی تعریف میں
مینڈکیوں کی طرح ٹراتے پھرتے ہیں،
مسجدوں میں استراحت فرماتے ہیں،
شعر گھڑتے اور محاورے بولتے ہیں
اور اللہ میاں سے دعا کرتے ہیں
وہ ہمارے دشمن کو نیست و نابود کر دے..

جان کی امان پاؤں
اور سلطان سے مل سکوں
تو کہوں "عالی جاہ!
آپ کے شکاری کتوں نے
میرا لباس تار تار کردیا ہے
آپ کے مخبر ہر وقت میرا تعاقب کرتے ہیں
ان کی آنکھیں، ان کی ناک، ان کے قدم
میرا پیچھا کرتے ہیں
جیسے کہ میں ان کی منزل ہوں
اور وہ میرا نصیب
انہوں نے میری بیوی پر سوالات کی بوچھاڑ کر دی
اور میرے دوستوں کے نام اور پتے لکھ کر لے گئے ہیں..
سلطانِ عالی شان!
میں آپ کی بہری دیواروں تک آیا ہوں
اس امید پر
کہ شائد اپنے غم اور دکھ کا اظہار کر سکوں
مگر آپ کے سپاہیوں نے
میرے ساتھ یہ سلوک کیا ہے
مجھے میرے ہی جوتے سے مارا ہے
عالی جاہ! میرے سلطانِ ذی وقار!
ہماری آدھی قوم کے منہ میں زبان نہیں ہے،
کیا قدر ہو سکتی ہے ان کی
جن کی زبانیں بند اور ہونٹ سلے ہوں،
ہماری نصف سے زیادہ آبادی
کیڑوں مکوڑوں اور چوہوں کی طرح
چار دیواریوں میں بند ہے
اور جناب!
کیا کوئی قوم اظہار کی آزادی کے بغیر زندہ رہ سکتی ہے"
اگر شاہی چمچوں کے ظلم سے بچ کر
سلطان کے حضور پہنچ پاؤں
تو عرض کروں، کہ عالی جاہ!
آپ دو مرتبہ جنگ ہار چکے ہیں
کیونکہ آپ انسانی حقوق سے منکر ہیں..

اگر ہم اتحاد کو صحرا میں دفن نہ کر دیتے،
اگر ہم اس کے نازک جسم کو بھالوں سے چھلنی نہ کر دیتے،
اگر ہم اتحاد کو آنکھوں سے لگا کر رکھتے،
تو آج ہمارے جسم
وحشی کتوں کے ناخنوں اور دانتوں میں نہ ہوتے..

ہمیں ایک ناراض نسل کی ضرورت ہے
وہ نسل جو نئے افق دریافت کر سکے،
نئے افق میں ہل چلا سکے،
جو تاریخ کو اس کی جڑوں سے اکھاڑ سکے، ہمارے افکار کی بنیادیں ہلا سکے.
ہمیں ایک نئی قسم کی نسل چاہیے
جو کبھی کسی کو بھی معاف نہ کرے،
غلطیوں سے کسی حالت میں بھی
چشم پوشی نہ کرے،
جو کبھی کسی کے سامنے نہ جھکے،
جسے دنیاوی مصلحتوں سے کوئی واسطہ نہ ہو،
ہمیں ایک پوری نسل چاہیے
رہنماؤں کی، عظیم انسانوں کی..

بچو!
بحر اقیانوس سے بحیرہ عرب
اور خلیج تک پھیلے ہوئے بچو!
تم گندم کی بالیوں کی طرح ہماری امید ہو
تم ہی وہ نسل ہو
جو زنجیریں توڑے گی
جو ہمارے سروں کی افیون تلف کرے گی
ہماری خوش فہمیوں، اندیشوں اور واہموں کو
موت کے گھاٹ اتارے گی..

بچو!
تم معصوم اور خالص ہو،
شبنم کے موتیوں اور برف کے گالوں کی طرح
صاف اور پاکیزہ ہو،
ہم ناکام ہیں
ہماری شکست خوردہ نسل کی تقلید مت کرو..
ہم تربوز کے چھلکے کی طرح
بالکل حقیر ہیں، بیکار ہیں.
پرانے جوتوں کی طرف بوسیدہ ہیں،
ہماری تاریخ نہ پڑھو،
ہمارے نقش قدم پر نہ چلو،
ہمارے خیالات پر کان نہ دھرو،
ہم بیماروں کی، خوف زدہ لوگوں کی
دھوکہ بازوں اور بازیگروں کی نسل ہیں.. 

بچو!
تم بہار کی بارش ہو
امید کی کونپلیں ہو
ہماری بنجر زمین میں زرخیزی کے بیج ہو
تم ہی وہ نسل ہو
جو ہماری شکست کو
اپنی فتح میں بدل سکتی ہے!

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"کرانچی ہمارا" اور "مرسوں مرسوں" کے شور میں دبی یہ آواز.... ذرا سی توجہ چاہتی ہے.

صبا دشتیاری. ڈاکٹر اکبر بلوچ

شہید پروفیسر صبا دشتیاری کی یاد میں