کرونا کی ویکسین ہمارے پاس پہلے سے ہی موجود ہے!


کرونا کی ویکسین ہمارے پاس پہلے سے ہی موجود ہے!



کرونا کرونا کے شور سے ویکسین ویکسین کی صدائیں بھی سننے میں آ رہی ہیں.... لیکن جب حواس منتشر ہوں تو ایسی حالت میں سامنے پڑی چیز بھی دکھائی نہیں دیتی....
ہر طرف ایک سوال ہے آخر یہ ویکسین کب تیار ہوگی!!؟؟
لیکن ایک منٹ رکیے.....
کیا آپ کا دھیان اس طرف بلکل بھی نہیں گیا، جی ہاں، اس ویکسین کی طرف، جو نہ صرف کرونا بلکہ ہر بیماری کے خلاف ایک قدرتی ہتھیار کی طرح ہے....؟
اگر آپ کی توجہ اس طرف نہیں گئی، تو ہم آپ کو متوجہ کیے دیتے ہیں.
ان دنوں آپ کو ایک اصطلاح کئی ذرائع سے مسلسل سننے کو مل رہی ہوگی:
" مدافعتی نظام "
Immunity / Immune System
مختصر اور آسان الفاظ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ بیماریوں کے خلاف لڑنے والا قدرتی نظام ہے، جو ہمارے جسم میں موجود ہے. ہمیں صحت مند رکھنا اور ہمارے جسم کو مختلف جراثیم کے حملوں سے بچانا ہمارے مدافعتی نظام کا بنیادی کام ہے۔ یہ نظام ہر وقت جراثیم اور مختلف قسم کے بیکٹریاز سے جنگ کی حالت میں رہتا ہے.
یہاں تک کہ  ﺳﺎﺋﻨﺴﯽ میگزین "ﺍﻣﯿﻮﻧﭩﯽ ﺍﯾﻨﮉ ﺍﯾﺠﻨﮓ" ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ایک ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻣﺪﺍﻓﻌﺘﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﮐﮯ ﻣﻌﺎﺋﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺷﺨﺺ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ بھی ﻟﮕﺎﯾﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔"
یہاں بہتر ہوگا کہ کرونا وائرس کے حوالے سے ہم مین-میڈ وائرس، بائیولوجیکل وار فیئر، سازشی تھیئریز کو ایک طرف رکھ کر، صرف متفقہ نکات پر بات کریں، جن سے کسی بحث میں الجھے بغیر یہ واضح ہو سکے کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
جیسا کہ میں نے ابتدا میں کہا کہ موجودہ حالات میں یہ بات ہم میں سے اکثر لوگ بار بار سن رہے ہونگے، کہ کرونا (یا کوئی بھی بیماری) زیادہ تر بزرگ افراد اور پہلے سے مختلف امراض کے شکار انسانوں کو اپنا نشانہ بناتی ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا  ہے کہ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟
دراصل جن افراد کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے، ان میں مختلف وائرل انفیکشنز میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ نزلہ و زکام، نمونیہ، الرجی، ہیضہ، سانس کی بیماریوں، تھکاوٹ اور کمزوری کی شکایات عام ہوتی ہیں۔
⭕ مدافعتی نظام کمزور کیوں ہوتا ہے؟
مدافعتی نظام کی کمزوری  کے مختلف عوامل ہیں، مثال کے طور پر
فرد کی خوراک، رہن سہن، نفسیاتی دباؤ، عمر، خراب غذائی عادات، وزن، غیر صحت مند طرز زندگی اور عادات و اطوار وغیرہ
آئیے مدافعتی نظام کو کمزور کرنے والے ان عوامل اور اسباب کو ترتیبوار دیکھتے ہیں:
1️⃣ موروثی/ پیدائشی طور پر کمزور مدافعتی نظام
🔴 اس کا تعلق بھی اکثر اوقات والدین کے غیر صحتمند لائف اسٹائل/خوارک وغیرہ سے ہوتا ہے
2️⃣ غیر صحتمند طرز زندگی
اس میں یہ باتیں شامل ہیں
🔴 خراب غذائی عادات (فاسٹ فوڈ/ جنک فوڈ/ کیمیکل پرزرو فوڈ/ فروزن فوڈ/ بھاری غذائیں/ سافٹ ڈرنکس/ انرجی ڈرنکس وغیرہ کا استعمال
🔴 دير سے سو کر دیر سے اٹھنا/ پوری نیند نہ لینا
🔴 جسمانی طور پر غیر فعال رہنا/ ورزش نہ کرنا
3️⃣ عمر کا بڑھنا
4️⃣ پروٹین، کیلشیم اور وٹامن ڈی کی کمی
5️⃣ پھیپھڑوں اور دل کے عوارض، بلڈ پریشر، شوگر، سرطان اور ایڈز کی بیماریاں
6️⃣ ذہنی تناؤ، خوف اور ڈپریشن
7️⃣ الکوحل اور دیگر نشہ آور اشیاء کا استعمال
8️⃣ ادویات/میڈیسن کا بے تحاشہ اور غیر ضروری استعمال
یہ اور اس سے متعلقہ کئی عوامل ہمارے مدافعتی نظام کو کمزور یا تباہ کر دیتے ہیں.
اور یہی تو اصل ویکسین ہے، جس کی طرف ہماری توجہ نہیں گئی، یہ ویکسین نہ صرف کرونا بلکہ ہر بیماری کے خلاف چلنے والا وہ ہتھیار ہے، جو قدرت نے ہمیں مفت میں دیا ہے، اسی لیے شاید ہم اس کی قدر و قیمت سے واقف نہیں ہیں..
اگر آپ صحتمند رہنا چاہتے ہیں، وائرل ڈزیزس سے بچنا چاہتے ہیں تو اس کا مستقل اور پائدار حل موجود ہے، آپ کو بیماریوں اور انفیکشنز کے خلاف لڑنے والے اپنے جسم میں موجود اس قدرتی دفاعی نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے.
اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ
🔷 اپنے غیر صحتمند طرز زندگی/لائف اسٹائل کو تبدیل کریں.
🔷 ڈبوں اور پیکٹوں میں بند پرزرو کیمیکلز سے محفوظ کی گئی غذائیں کھانا مکمل طور پر چھوڑ دیں، چاہے وہ قدرتی چیزیں ہی کیوں نہ ہوں.
🔷 فاسٹ فوڈ/ جنک فوڈ/ انرجی اور سافٹ ڈرنکس/ ڈبہ بند جوسز استعمال کرنے سے مکمل طور پر پرہیز کریں اور خدارا! اپنے بچوں کو بھی ان چیزوں کا عادی مت بنائیں. یہ ہمارے مدافعتی نظام کے لیے زہر قاتل ہیں.
🔷 جلدی سو کر، سورج طلوع ہونے سے پہلے جاگنے کی عادت اپنائیں. دن کا آغاز فجر کی نماز سے کریں.
🔷 سہل پسندی اور آرام پسندی کو الوداع کہیں اور جسمانی طور پر غیر فعال رہنا چھوڑ دیں. واک/ ورزش/ یوگا کرنے کو روزانہ کا معمول بنالیں. ورزش مدافعتی نظام کو مضبوط اور فعال رکھنے کے لیے ایندھن کا کام کرتی ہے، اسے آج سے ہی شروع کریں.
🔷 وٹامن/ پروٹین سے بھرپور قدرتی غذائیں مناسب مقدار میں استعمال کریں.
🔷 ذہنی تناؤ اور نفسیاتی دباؤ سے نکلنے کے لیے مثبت سوچ اپنائیں. اپنے آس پاس موجود لوگوں کی مدد کریں، یاد رکھیں حقیقی خوشی کی بنیاد مادی ترقی سے نہیں، آپ کے مثبت رویے سے پڑتی ہے، اگر خوش رہنا چاہتے ہیں تو دوسروں میں خوشیاں اور مسکراہٹیں بانٹیے. پُر امید رہیے. عبادات اور معاشرت کے اسلامی اصول اپنائیے.
🔷 الکوحول اور تمام نشہ آور اشیاء سے مکمل طور پر پرہیز کریں.
🔷 ادویات کا بے تحاشہ اور غیر ضروری استعمال بلکل بھی نہ کریں. چھوٹی چھوٹی سی تکلیف میں اینٹی بائیوٹک اور پین کلرز کا استعمال ہمارے مدافعتی نظام کو تباہ کر دیتا ہے، اس لیے اس سے بچیں.
اس کے علاوہ بھی کئی ایسے اقدامات ہیں، جن کی مدد سے آپ اپنے مدافعتی نظام کو مضبوط اور فعال بنا سکتے ہیں.
صحت ﷲ تعالی' کی عطا کردہ بہت بڑی نعمت ہے، اس کی قدر کیجیے، اس کا شکر ادا کیجیے اور شکر ادا کرنے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس نعمت کی حفاظت کیجیے.

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"کرانچی ہمارا" اور "مرسوں مرسوں" کے شور میں دبی یہ آواز.... ذرا سی توجہ چاہتی ہے.

صبا دشتیاری. ڈاکٹر اکبر بلوچ

شہید پروفیسر صبا دشتیاری کی یاد میں