زبردستی کورونا کا مریض قرار دینے پر جناح ہسپتال میں نوجوان کی خودکشی



ایک مقامی رپورٹر کی طرف سے ایک خوفناک انکشاف سامنے آیا ہے، جوایک نوجوان  کی خودکشی  کے بارے میں ہے

رہورٹ کے مطابق ایک 30 سالہ نوجوان فواد عباسی کو اتوار کے دن طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے جنآح ہسپتال کی ایمرجنسی میں بغرض علاج لایا گیا. لیکن  بنا کسی چیک اپ اور ضروری ٹیسٹس کے انہیں کورونا پازیٹو قرار دے کر زبردستی کورونا کے مریضوں لیے مخصوص وارڈ میں داخل کر دیا گیا.

ﺫﺭﺍﺋﻊ نے انکشاف کیا ہے کہ نوجوان نے اس پر سخت احتجاج کیا اور وہ چیخ چیخ کر کہتا رہا کہ " میں ﮐﻮﺭﻭﻧﺎ کا مریض نہیں ہوں اور نہ ہی مجھ میں کورونا کی کوئی بھی علامات موجود ہیں، میرا کوئی ٹیسٹ کیے بغیر  مجھے اس وارڈ میں مت بھیجو ورنہ مجھے کورونا یو جائے گا"

لیکن مریض کو زبردستی کورونا وارڈ میں ﻣﻨﺘﻘﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﭨﯿﺴﭧ ﮐﮯ ﺳﯿﻤﭙﻞ ﻟﯿﺌﮯ ﮔﺌﮯ، ﭘﯿﺮ ﮐﯽ ﺩﻭﭘﮩﺮ ﮐﻮ اس کی رپورٹ منفی آئی، لیکن انتہائی خوفزدہ ہونے کی وجہ سے نوجوان فواد عباسی ﻧﮯ ﺻﺒﺢ ﺳﺎﮌﮬﮯ 6 ﺑﺠﮯ ﻭﺍﺭﮈ ﮐﯽ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﻣﻨﺰﻝ ﺳﮯ ﮐﻮﺩ ﮐﺮ جان دے دی.

ﺟﻨﺎﺡ ﮨﺴﭙﺘﺎﻝ کی انتظامیہ اس متعلق حقائق کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے اور بدقسمتی سے مین اسٹریم میڈیا کو بھی اس ضمن میں سانپ سونگھ گیا ہے. صبح شان منہ پھاڑ پھاڑ کر کورونا کے جعلی اعداد و شمار بتانے والا میڈیا انتظامیہ سے مل کر اس واقعے پر مکمل طور پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے.

جناح ﮨﺴﭙﺘﺎﻝ ﺍﻧﺘﻈﺎﻣﯿﮧ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮉﯾﺎ ﮐﮯ ﺑﺪﻋﻨﻮﺍﻥ ﺻﺤﺎﻓﯽ  ﺍﯾﮏ جٹ ہوگئے  ہیں۔ ﮐﭽﮫ ﻧﮯ سرے سے ﺧﺒﺮ کو شایع اور ﻧﺸﺮ  ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ کیا، ﺗﻮ ﮐﭽﮫ ﻧﮯ انتہائی ﺟﺎﻧﺒﺪﺍﺭانہ ﺭﭘﻮﺭﭨﻨﮓ ﮐﯽ۔

حتی' کہ ﺟﯿﻮ اور ﮈﺍﻥ سمیت تمام میڈیا ﺍﻧﺘﻈﺎﻣﯽ ﻏﻔﻠﺖ ﮐﺎ ﺩﻓﺎﻉ کر رہا ہے اور ﻣﺮﯾﺾ ﮐﮯ ﻭﺭﺛﺎﺀ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻒ ﺷﺎﯾﻊ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺻﺮﻑ ﮨﺴﭙﺘﺎﻝ ﮐﯽ ﮈﺍﺋﺮﯾﮑﭩﺮ ﺳﯿﻤﯽ ﺟﻤﺎﻟﯽ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻒ ہی پیش کر کے تصویر کا صرف ایک ہی رخ دکھا رہا ہے. میڈیا  ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺘﻈﺎﻣﯿﮧ نوجوان  ﮐﻮ ﮐﻮﺭﻭﻧﺎ ﻣﺮﯾﺾ، ﭘﺎﮔﻞ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﺸﯿﺎﺕ ﮐﺎ ﻋﺎﺩﯼ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﮭﺮﭘﻮﺭ ﮐﻮﺷﺶ کر رہی ﮨﮯ۔

 آخر میڈیا کیوں یک طرفہ ﻣﻮﻗﻒ پیش کرنے پر ہی مصر ہے اور وہ کیوں نوجوان ﮐﮯ ﻭﺭﺛﺎﺀ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻒ پیش نہیں کر رہا؟

 ﺳﯿﻤﯽ ﺟﻤﺎﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺘﻈﺎﻣﯿﮧ ﮐﯽ متضاد  ﺑﺎﺗﯿﮟ سامنے آئی ﮨﯿﮟ، ان کا کہنا ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﺮﯾﺾ ﮐﺎ ﺍﯾﮑﺴﺮﮮ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺭﻭﻧﺎ ﮐﯽ ﻣﺒﯿﻨﺎ ﻋﻼﻣﺎﺕ ﻭﺍﺿﺢ تھیں۔۔۔ کیا صرف اور صرف ﺍﯾﮑﺴﺮﮮ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﭘﺮ ﮐﻮﺭﻭﻧﺎ پازیٹو قرار دے کر ﺍﺳﮯ ﮐﻮﺭﻭﻧﺎ ﻭﺍﺭﮈ ﻣﻨﺘﻘﻞ ﮐﯿﺎ جانا درست تھا؟

اگر ہسپتال انتظامیہ کے موقف کے مطابق "ﻣﺮﯾﺾ ﻣﻨﺸﯿﺎﺕ ﮐﺎ ﻋﺎﺩﯼ ﺗﮭﺎ" ۔ ﭘﻮﻟﯿﺲ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ "وہ ﺁﺋﯿﺲ ﮐﺎ ﻧﺸﮧ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﺴﭙﺘﺎﻝ ﻋﻼﺝ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺁﯾﺎ تھا" اور انتظامیہ کے ہی موقف کے مطابق "اس میں ﻧﻔﺴﯿﺎﺗﯽ ﻣﺮﺽ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺎﺕ ﺑﮭﯽ موجود ﺗﮭﯿﮟ" ﺗﻮ آخر ﻣﺮﯾﺾ ﮐﻮ ان بیماریوں کے لیے مخصوص ﻭﺍﺭﮈز میں کیوں ﻣﻨﺘﻘﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ؟

آخر ﺍﺳﮯ ﮐﻮﺭﻭﻧﺎ ﮐﮯ ﻭﺍﺭﮈ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﻣﻨﺰﻝ ﭘﺮ ﮐﺲ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺑﻨﺪ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ، ﺟﺒﮑﮧ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺑﻨﺪ ﮐﺮﻧﮯ کا عنل متعلقہ  ﮈﺍﮐﭩﺮﺯ ﮐﯽ ﮐﺎﻏﺬﯼ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺻﺮﻑ ﻧﻔﺴﯿﺎﺗﯽ ﻭﺍﺭﮈﺯ ﻣﯿﮟ ہی ہوتا ہے؟

ﺍﮔﺮ ﻣﺮﯾﺾ ﮐﻮ ﮐﻮﺭﻭﻧﺎ  نہ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ، جو کہ آخری رپورٹ کے مطابق اس نہیں تھا، ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﯾﺴﮯ ﻭﺍﺭﮈ ﺳﮯ ﮐﻮﺭﻭﻧﺎ ﺳﮯ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ تھا۔ ﮐﯿﺎ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﻮﺭﻭﻧﺎ ﭨﯿﺴﭧ ﻧﺘﯿﺠﮯ ﮐﮯ ﺻﺮﻑ ﺷﮏ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﭘﺮ ﻣﺮﯾﺾ ﮐﻮ ﮐﻮﺭﻭﻧﺎ ﻭﺍﺭﮈ ﻣﻨﺘﻘﻞ ﮐﺮﻧﺎ ﺩﺭﺳﺖ ﻋﻤﻞ ﮨﮯ؟
اس سلسلے میں سب سے اہم بات یہ نقطہ ہے کہ نوجوان کے کورونا ٹیسٹ کی رپورٹ نگیٹو آئی ہے. اگر انتظامیہ کے موقف کو  مانتے ہوئے دوسری باتوں کو درست تسلیم کر بھی لیا جائے، تب بھی یہ بات اپنی جگہ بہت بڑا سوال ہے کہ اسے صرف شک کی بنیاد پر کورونا کا مریض قرار دے کر زبردستی کورونا وارڈ میں آخر کیوں بھیجا گیا. واضح رہے کہ یہی وہ بنیادی وجہ تھی جو خودکشی .کے انتہائی اقدام کی وجہ بنی

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"کرانچی ہمارا" اور "مرسوں مرسوں" کے شور میں دبی یہ آواز.... ذرا سی توجہ چاہتی ہے.

صبا دشتیاری. ڈاکٹر اکبر بلوچ

شہید پروفیسر صبا دشتیاری کی یاد میں